حیات شمس

by Other Authors

Page 466 of 748

حیات شمس — Page 466

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 450 میں نے جواب دیا بیشک یہ اچھی تعلیم ہے مگر پہلے بھی کسی نبی نے یہ تعلیم نہ دی تھی کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصے ہونا جائز ہے کیونکہ انسانیت کا تقاضا ہے کہ کوئی انسان بلا وجہ کسی پر ناراض نہ ہو بلکہ امثال 30:3 میں یہی لکھا ہے کہ : کسی انسان سے بے سبب جھگڑ امت کر جس حال میں کہ اس نے تجھ سے کچھ بدی نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ صرف اتنی سی بات کسی انسان کو تعریف کا مستحق نہیں بنا سکتی۔آئیے قرآن مجید کی تعلیم کو دیکھیں اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت جو خدا تعالیٰ کی رضا کا مقام ہے۔وہ ان لوگوں کیلئے ہے جو متقی ہیں اور انکی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے۔وَالْكَاظِمِيْنَ الْغَيْظَ ( آل عمران :135 ) یعنی وہ باوجود غصہ دلانیوالے اسباب کی موجودگی کے اپنے غصہ کو روک لیتے ہیں اور ظاہر نہیں ہونے دیتے۔پھر فرمایا کہ یہ آخری درجہ نہیں بلکہ اس سے اوپر ایک اور درجہ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (آل عمران : 135) کا ہے یعنی نہ صرف یہ کہ وہ ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو معاف کرنے والے بھی ہیں۔یہ ممکن ہے کہ ایک شخص غصہ دلانیوالی بات کا مرتکب ہوا اور دوسرا شخص غصہ کا اظہار نہ کرے لیکن دل میں ناراضگی محسوس کرے یا کم از کم غصہ دلانیوالے کو یہ خیال رہے کہ وہ اپنے دل میں ضرور ناراض ہوگا۔سو قر آن مجید نے متقیوں کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ معاف کر کے اس کا کلیہ ازالہ کر دیتے ہیں۔پھر فرمایا کہ اس سے او پر ایک اور درجہ بھی ہے اور وہ احسان کا ہے۔چنانچہ فرمایا اللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ( آل عمران :135) کہ وہ نہ صرف معاف کرتے بلکہ اس وقت وہ احسان کے طور پر بلاطلب معاوضہ کوئی چیز بھی دیدیتے ہیں اور جب انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ اس وقت خدا کا محبوب بن جاتا ہے جو روحانی منازل کا اعلیٰ مقام ہے۔یہ ایسی کامل تعلیم ہے کہ اس سے اوپر اور کوئی مرتبہ تجویز نہیں کیا جاسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح ناصری کئی دفعہ اس موضوع پر مناظرہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ اور حضرت عیسی میں سے کون افضل ہے؟ ایک موقع پر ایک مسیحی نے مسیح کی افضلیت ثابت کرتے ہوئے کہا کہ جس قسم کے اخلاق کا حضرت مسیح نے نمونہ دکھایا اس کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔جب یہودیوں نے اسے صلیب پر لٹکا یا تو اس نے ان کیلئے ان الفاظ میں دعا کی اے میرے باپ تو انہیں معاف کر کیونکہ وہ نہیں جانتے۔میں نے کہا بیشک انہوں نے نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا لیکن آنحضرت ﷺ نے بھی اپنے ان دشمنوں کیلئے جنہوں