حیات شمس

by Other Authors

Page 455 of 748

حیات شمس — Page 455

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 439 سب سے نمایاں ذکر ” اسلامی پلیٹ فارم کا کیا گیا ہے۔اس طویل بیان میں سے چند اقتباسات پیش ہیں: ہائیڈ پارک کے مقررین کی اس گیلری میں ابھی ابھی ایک نیا اضافہ ہوا ہے۔ایک چھوٹے قد باریش ، گندمی رنگ ، چمکیلی، بڑی بڑی آنکھوں والے مقرر کا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اہل لندن کو مسلمان بنانے کا تہیہ کیا ہے۔اس کی انگریزی کافی رواں اور تیز ہے۔چہرہ پر متانت اور مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ وہ اعتراضات اور سوالات سنتا ہے لیکن جونہی وہ اپنے سائل کے مقصد کو سمجھ جاتا ہے بڑی مشکل سے وہ اپنے آپ کو روک سکتا ہے پھر وہ انتہائی جوش میں آکر انگلیوں کو تیز تیز حرکت دیتے ہوئے پلیٹ فارم پر گوناں گوں وثوق کے ساتھ ہاتھ مارنے لگتا ہے۔مجھے سنو! پھر وہ پکارتا ہے سنو! تم جہالت سے کہہ رہے ہو۔میرے دوستو اجازت دو کہ تمہیں قرآن اس کا جواب دے۔قرآن کو جواب دینے دو اور پھر وہ قرآن کے ایک بہت مستعمل نسخہ کے اوراق الٹنے لگتا ہے۔حتی کہ وہ ضروری مقام تلاش کر لیتا ہے۔پھر وہ فاتحانہ انداز سے ایک بشاش نظر اپنے گردو پیش پر دوڑاتے ہوئے جو کچھ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کہا ہے زور بیان اور تاکید کے ساتھ رک رک کر پڑھتا ہے۔پہلے وہ گوناں جذبات کے ساتھ اسے عربی زبان میں پڑھتا ہے۔اس کے گرد قریب ہی اس کے دیگر مقتدین اور شاگرد دس پندرہ کے قریب جوان عرب بعض سفید پگڑیوں میں اکثر باریش ہاتھ باندھے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور جونہی کہ وہ قرآن کے الفاظ سنتے ہیں وہ بھی فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہیں۔سروں کو ہلاتے ہوئے اپنے گرد ملحدوں اور منکروں کی جمعیت کو دیکھنے لگتے ہیں اور عموماً خود کو اس طرح ظاہر کرنے لگتے ہیں کہ ان کے میر میدان اور پہلوان نے ناقابل تردید طریق پر پیش کردہ بات کو ثابت کر دیا ہے۔پھر وہ بیتابی اور خوشی کے ساتھ ہاتھوں کو باندھے ہوئے جلدی ان آیات کا انگریزی ترجمہ کرتا ہے۔یہ ظاہر اور صریح بات ہے کہ وہ اور سوالات چاہتا ہے اور دلائل چاہتا ہے۔یہ ان ایام کا ذکر ہے کہ جب مکرم مولوی صاحب ( حضرت مولانا شمس صاحب ) پندرہ کے قریب دیگر واقفین کے ہمراہ ہائیڈ پارک لیکچر کیلئے تشریف لے جاتے تھے۔ہماری اس قدر