حیات شمس — Page 451
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 66 آپ کو اغیار کے تمسخر کی آماجگاہ بنے رہنے سے محفوظ و مامون کر لیں۔“ وو 435 مولا نا صاحب موصوف نے اس حقیقت کا پرزور الفاظ میں اظہار فرمایا کہ اختلافات یقیناً دوستانہ طریق پر طے ہو سکتے ہیں۔مشرق وسطی میں لڑائی جھگڑوں اور با ہمی خلفشار پر مولوی صاحب موصوف نے بہت کچھ روشنی ڈالی۔آپ نے گفتگو کو مسئلہ فلسطین سے شروع کیا اور آخر میں فلسطین کے متعلق صدر ٹرومین کے آخری بیان دربارہ داخلہ یہود کو ایک چالاکی و ہوشیاری کی ایک چال قرار دیا کہ جو آئندہ صدراتی انتخابات میں یہودی ووٹس حاصل کرنے کی غرض سے چلائی گئی ہے۔نیز فرمایا: عرب ہرگز فلسطین میں یہودیوں کے داخلے پر رضامند نہیں ہوں گے۔اور پھر پرزور الفاظ میں بتایا کہ عرب کبھی بھی روس سے امداد کی درخواست نہ کریں گے۔یہودی کریں تو کریں۔آپ نے مزید فرمایا ” مسئلہ فلسطین کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ 1939 ء کا قرطاس ابیض ہے جس کا مقصد فلسطین میں وفاقی حکومت کا قیام ہے جس میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یہودی صرف 33 فی صدی کی حد تک شریک کار ہو سکتے ہیں۔آپ نے یہ بھی فرمایا۔” تمام عرب ممالک عرب لیگ کے ماتحت مصمم طور پر متحد ہو چکے ہیں اور اب وہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر ہر قسم کی جدو جہد کیلئے کافی منتظم اور مضبوط ہیں۔(بہر حال) مشرق وسطی میں نازک قسم کے سیاسی تقابل کشمکش کے آثار پائے جاتے ہیں۔جہاں آپ نے اس امر کو تسلیم کیا کہ انگریز مسئلہ فلسطین کے بارہ میں عربوں کے حق میں نظر آتے ہیں وہاں مولوی صاحب موصوف نے مصر سے متعلق ان کے رویہ کی مذمت کی اور فرمایا۔انگریز کبھی بھی مصر کو بکلی چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔وہ بوجہ اس کے اہم ترین جائے وقوع کے نہر سویز کے معاملات سے اپنے مفاد عظیم کی خاطر گہرا تعلق رکھتے ہیں۔یہ ہو سکتا ہے کہ بعض مراعات حاصل کرنے کے بعد وہ مصر کو خالی کردیں لیکن مصر کے آس پاس وہ اپنے اڈے ضرور قائم رکھیں گے، فلسطین میں تو ان کی افواج موجود ہیں۔حال ہی میں اگر چہ انہوں نے شام کے علاقوں کو خالی کیا لیکن ساتھ ہی ٹرانس جورڈن (شرق اردن ) میں بادشاہ عبداللہ کو تخت پر بٹھا کر نئے معاہدے کی رو سے اپنی فوجوں کو وہاں لا بٹھایا ہے آپ نے یہ بھی کہا ” تمام مصری بوڑھے اور جوان اور تمام سیاسی جماعتیں بلا استثناء اس مطالبہ پر متفق ہیں کہ برطانوی افواج سرزمین مصر کو بکلی خیر باد کہہ دیں۔ایران کے بارہ میں مولوی شمس صاحب نے فرمایا کہ بڑی طاقتوں سے کوئی بھی اس وقت ایران میں لڑائی مول لینے کو تیار نہیں کیونکہ سب جنگ سے اکتا چکی ہیں لیکن تیل کے چشموں پر کبھی نہ کبھی اگر چہ ایک طویل عرصہ کے بعد ہی سہی لڑائی کا امکان ضرور ہے۔ایرانی وز یر اعظم