حیات شمس — Page 437
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس کنگ جارج کی خدمت میں تبلیغی مکتوب اور احمد یہ لٹریچر ہیں: 421 مولانا جلال الدین صاحب شمس انچارج احمد یہ مشن لنڈن اور امام مسجد احمد یہ لنڈن تحریر فرماتے 1944ء میں میں نے بعض قومی لیڈروں اور بادشاہوں کو احمد یہ لٹریچر بھیجا تھا۔مدت سے ارادہ تھا کہ ہر میجسٹی کنگ جارج ششم کی خدمت میں بھی لٹریچر روانہ کروں۔چنانچہ 28 دسمبر 1945ء کو میں نے ایک خط کے ہمراہ چار کتابیں مع اپنی کتاب ” اسلام بھیجیں۔”اسلام“ کو رکھ کر باقی کتب مجھے واپس کردی گئیں۔خط اور اس کا جواب مندرجہ ذیل ہے: عالی جناب کنگ جارج ششم یور میجسٹی ، راقم خدائے قادر و توانا کا ایک خادم ہے جس کی بارگاہ میں بادشاہ اور عام لوگ برابر ہیں مگر یہ کہ کوئی اس کی منشاء کے مطابق کام کرنے میں دوسروں پر سبقت لے جائے۔اورUnited Kingdom میں عالمگیر احمدیہ موومنٹ کا ایک نمائندہ ہوں اور اس امر کا خواہشمند ہوں کہ یور میجسٹی کو نئے سال پر تحفہ پیش کروں۔میرا تحفہ چار کتابیں ہیں جو ایک ایسے قیمتی خزانہ پر مشتمل ہیں جسے دنیا دار لوگوں کی طرف سے بسا اوقات رد کر دیا جاتا ہے اور دولت مندوں کا اسے رد کرنا اتنا عام ہے کہ دو ہزار سال ہوئے جب ایک خدائی معلم کو یہ کہنا پڑا۔” اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو۔لیکن جو لوگ اسے قبول کر لیتے ہیں اور اس کی طرف سے وہ زمین و آسمان اور دنیا و آخرت میں عزت دیئے جاتے ہیں۔اس دنیا کی بادشاہت ایک عارضی چیز ہے جو عرصہ دراز تک قائم نہیں رہتی۔بہت سے بادشاہ حالات سے مجبور ہوکر اپنی زمینی بادشاہتوں سے محروم ہو گئے لیکن جو آسمانی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں وہ ابدی برکت و رحمت سے خوش وقت ہوتے ہیں۔یور میجسٹی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک مذہبی شخص کو جیسا کہ خاکسار ہے اس کا مذہب سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے جس کیلئے وہ ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔اگر ضرورت پڑے تو جان بھی قربان کر دیتا ہے اس لئے جب ایسا شخص اپنے مذہب کو کسی کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ ایسی چیز پیش کرتا ہے جو اسے سب سے پیاری ہوتی