حیات شمس

by Other Authors

Page xl of 748

حیات شمس — Page xl

xxxix کر کے چھپوانے کی متعلق توجہ دلاتے رہے ہیں۔اس سے قبل 1967ء میں مکرم عبد الباری قیوم صاحب نے ابا جان کے بارہ میں ابتداء سے لیکر بلاد عربیہ میں تبلیغی و تربیتی سرگرمیوں پر مشتمل حالات اخبارات وغیرہ کے اقتباسات کے ساتھ جمع کئے تھے جو ہمارے بڑے بھائی محترم ڈاکٹر صلاح الدین شمس صاحب مقیم امریکہ مرحوم کی طرف سے خالد احمدیت جلد اول کے طور پر چھپوائے گئے تھے۔اس کے بعد یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔چونکہ انگلستان یا بیرون پاکستان و بھارت جماعتی مطبوعه مواد بکثرت دستیاب نہیں اس لئے میرے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ ان حالات کو جمع کر سکتا لہذا ہمارے بھائی مکرم فلاح الدین شمس صاحب کی کوششوں سے مکرم احمد طاہر مرزا صاحب نے بڑی محنت و محبت سے یہ حالات جمع کئے ہیں۔فجر اھم اللہ احسن الجزاء۔ابتداء میں مکرم حبیب الرحمن زیر وی صاحب نے بعض حوالہ جات تلاش کرنے اور منظوم کلام تلاش کرنے میں مدد فرمائی تھی۔ہم ان کے اور ان تمام احباب کے جنہوں نے کسی بھی رنگ میں اس کتاب کی تیاری میں ہماری مددفرمائی ہے، ممنون ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ انہیں اس کا اجر عظیم عطا فرمائے۔آمین۔اس سے قبل بھی میں نے چند مرتبہ مسودہ کی پروف ریڈنگ کی ہے اور ضروری درستیاں کروائی گئی ہیں۔اس کے بعد میں مئی 2010ء میں بھائیوں اور بہنوں کے مشورہ سے مسودہ کتاب کو حتمی صورت دینے کیلئے ربوہ گیا جہاں مکرم احمد طاہر مرزا صاحب کے ساتھ متعدد نشستیں ہوئی ہیں۔خاکسار مکرم و محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر تحریک جدید و وکیل اعلیٰ کا ممنون ہے جنہوں نے خاکسار کی رہائش وغیرہ کے سلسلہ میں سہولیات مہیا فرما ئیں جس سے کام بہت حد تک آسان ہو گیا۔اسی طرح آپ کی زیر ہدایت مکرم میر رفیق مبارک صاحب نے بھی ہر طرح سے خیال رکھا۔فجز اھم اللہ احسن الجزاء۔جب مسودہ حتمی طور پر تیار ہو گیا تو جائزہ لینے پر محسوس کیا گیا کہ اس میں بعض ایسے امور شامل ہیں جن کا بظاہر اس کتاب سے براہ راست تعلق نہیں۔اسلئے از سر نو جائزہ لیکر کتاب کو مزید مختصر کیا گیا ہے۔آخر پر ٹائپنگ وغیرہ کے سلسلہ میں داؤ د احمد ظفر صاحب محمود احمد ملک صاحب اور عبدالحفیظ شاہد صاحب نے میری مددفرمائی۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین ہم حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بیحد ممنون ہیں جنہوں نے خاکسار کے عرض کرنے پر مسودہ کتاب کو اپنے پاس رکھا اور اس کے کچھ حصے ملاحظہ فرمانے کے علاوہ حضرت ابا جان کے بارہ میں اپنے تاثرات بھی از راہ شفقت واحسان خاکسار کے نام خط میں تحریر فرمائے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔