حیات شمس — Page 352
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 66 336 بھی دنیا میں عالمگیر امن قائم کرنے کے خیال سے مایوس ہو گئے ہیں جیسا کہ لارڈ میلیفیکس نے اپنی حال ہی میں کی جانے والی ایک تقریر میں کہا ہے آج کل یورپین اقوام ایک دوسری کے مقابلہ میں سرتا پا مسلح ہو رہی ہیں اور جنگی فوجوں کا خطرہ دنیا میں ہر دم محسوس ہورہا ہے۔اس حالت میں بنی نوع انسان کو تباہی سے بچانے کیلئے نہایت ضروری ہے کہ مختلف مذاہب کے نمائندے امن عامہ کے موضوع پر اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں اور لوگوں کو وہ تمام ذرائع اور طریق بتلا ئیں جن کو اختیار کرنے سے دنیا میں امن مستقل طور پر قائم کیا جاسکتا ہے۔عام طور یہاں لوگوں کو معلوم نہیں کہ لفظ اسلام سلم “ سے نکالا ہے جس کے معنے صلح اور آشتی کے ہیں۔سلام ہی مسلمان ایک دوسرے کو اس دنیا میں ملاقات کے وقت پیش کرتے ہیں اور جنت میں بھی ایک دوسرے سے سلام ہی پیش کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے ان اسمائے حسنیٰ میں جن کا ذکر قرآن مجید میں ہے، مومن اور میمن بھی ہیں۔مومن امن بخشنے والا اور سہیمن امن کا محافظ۔قرآن مجید کے مطابق ” سلامتی کا مقام حاصل کرنا ہی بنی نوع انسان کا روحانی مقصد و منتہا ہے۔ایک پکا مسلم وہی ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے بنی نوع انسان محفوظ ہوں۔اسی لئے اسلام نے جو صلح اور امن کا مذہب ہے، انسان کیلئے اپنے خالق کے ساتھ اور مختلف اقوام اور مذاہب میں صلح اور امن قائم کرنے کے متعلق بہت سے اصول مقرر فرمائے ہیں، اور ہمیں ایک مکمل ضابطہ دیا ہے جس سے ہم مجلسی، تمدنی اور ایسے بین الاقوامی مسائل جس میں فی زمانہ دنیا کی تمام اقوام الجھی ہوئی ہیں ، جل کر سکتے ہیں۔عالمگیر امن اور قرآن حکیم اپنے محدود وقت کے پیش نظر میں صرف قرآن کریم کے پیش کردہ اصولوں میں سے عالمگیر امن کے قیام، مختلف مذاہب ، اقوام اور حکومتوں میں ربط و اتحاد قائم کرنے کیلئے صرف چند اصول پیش کرتا ہوں۔1۔اسلام نے امن قائم کرنے اور باہمی تنازعات کو دور کرنے کیلئے دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کی ہے کہ ہر شخص کا حق ہے کہ اس کا ضمیر آزاد ہو اور جس مذہبی تحریک میں وہ چاہے حصہ لے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اور کہہ دو کہ حق اور سچائی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔پس جو ایمان لاتا ہے اسے بھی اور جو وو۔انکار کرتا ہے اسے بھی اپنی حالت پر چھوڑ دو۔مذہب میں کوئی جبر نہیں۔“