حیات شمس — Page 299
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 283 کہ وہ اسلامی قوانین پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔صرف قانون طلاق بدلنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا جب تک که مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کو نہ روکا جائے گا اور زنا کے ارتکاب پر سز امقرر نہیں کی جائے گی۔تھیوسوفیکل سوسائٹی میں گفتگو 11 مارچ کو تھیوسوفیکل سوسائٹی میں شخصی اور قومی دولت کے موضوع پر ایک لیکچر تھا۔میں اور برادرم عبد العزیز صاحب سننے کیلئے گئے۔اختتام لیکچر پر برادرم عبدالعزیز نے سود کے متعلق کہا کہ اسے بند کرنا چاہیے کیونکہ اس کے نقصانات بہت ہیں۔سپیکر نے جواب دیا کہ سود ہے تو بری چیز اور امریکہ میں بجٹ کے خسارہ کا موجب بھی سود ہی ہوا ہے لیکن موجودہ سسٹم کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہے یہ ایسی چیز نہیں ہے کہ اس پر جلدی سے عمل کیا جاسکے۔جب میٹنگ ختم ہوگئی تو ایک انگریز سے اسلام کی تعلیم رواداری اور مسیح کی صلیبی موت کے متعلق گفتگو ہوئی۔آخر پر اس نے کہا کہ اگر آپ ہماری سوسائٹی میں ایک لیکچر دیں تو بہت اچھا ہوگا۔مضمون ” اخوت اور عالمگیر امن ہو۔میں نے کہا بہت اچھا اگر آپ چاہیں تو اس پر لیکچر دے دیا جائے گا۔انہوں نے پھر اطلاع دینے کا وعدہ کیا۔ان صاحب کی دریائے ٹیمز میں بہت سی کشتیاں چلتی ہیں۔رائل مصری کلب میں عربی میں گفتگو 14 مارچ کو میں رائل مصری کلب گیا۔وہاں سات آٹھ مصری نوجوانوں سے جو یہاں کالجوں میں تعلیم پاتے ہیں تقریباً تین گھنٹہ تک مختلف مسائل پر عربی میں گفتگو ہوئی۔پہلے تو انہوں نے عیسائیوں اور سکھوں کے مذہب کے متعلق دریافت کیا۔اس کے بعد وفات مسیح اور صداقت مسیح موعود پر گفتگو ہوئی۔بعض نے کہا یہ تو نہیں سنا کہ میں دوبارہ آئے گا میں نے کہا کہ اگر آپ تفاسیر اور دیگر علماء کی کتب پڑھیں تو آپ کو معلوم ہو جائے کہ جو شخص وفات مسیح کا قائل نہیں ہے اور اس کے دوبارہ نزول کا منکر ہے وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔انہوں نے کہا قرآن مجید سے احمد مسیح موعود کے متعلق کوئی پیشگوئی بتا ئیں۔حاضرین میں سے ایک فلسطینی تھا جو مفتی حسین کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔اس نے کہا اسمه اَحْمَد سے آپ ثابت کرتے ہوں گے مگر یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہے۔میں نے کہا یہ بھی مسیح موعود کے متعلق ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں مگر چونکہ آپ نے اس کو خود پیش کیا ہے اس لئے اس کو بیان کرتا ہوں مگر پہلے پیشگوئیوں کے متعلق ایک اصول کا ذکر کر دینا ضروری