حیات شمس

by Other Authors

Page 295 of 748

حیات شمس — Page 295

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس استثناء18:18 سے ظاہر ہے۔یہودی : استثناء باب 18:18 میں جس نبی کا ذکر ہے بنی اسرائیل سے آئے گا۔شمس بنی اسرائیل کے بھائیوں سے مراد بنی اسماعیل ہیں۔یہودی بنی اسرائیل کے بھائیوں سے بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔شمس بنی اسماعیل بنی اسرائیل کے ساتھ تھے یا نہیں۔یہودی : وہ ایک رنگ میں بھائی تھے لیکن یہاں بنی اسرائیل ہی مراد ہیں۔279 شمس آپ تسلیم کرتے ہیں کہ بنی اسماعیل بھی بنی اسرائیل کے بھائی ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ پیشگوئی میں بنی اسرائیل یا بنی اسماعیل۔ہمارے نزدیک بنی اسماعیل مراد ہیں اور اس کی تین وجوہات ہیں۔(1) اس پیشگوئی کے پہلے لکھا ہے کہ میں نے حورب کے مقام پر یہ کہا کہ وہ خدا کا کلام سننا نہیں چاہتے۔خدا نے کہا انہوں نے اچھا کیا جو یہ کہا۔اس لئے میں انکے بھائیوں سے نبی مبعوث کروں گا جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ ان میں سے وہ بنی نہیں آئیگا۔(2) جب مسیح آئے تو انہوں نے انگور کے باغ کی مثال دے کر سمجھایا کہ ان کے بعد مالک آئے گا اور یہود کو مخاطب کر کے کہا کہ : ” اب تم سے آسمانی بادشاہت چھین لی جائے گی اور دوسری قوم کو دی جائے گی۔“ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح کے بعد بنی اسرائیل میں سے کوئی نبی نہ آئے گا بلکہ دوسری قوم سے آئے گا اور کتاب پیدائش میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ مذکور ہے کہ تیری نسل سے تمام قو میں برکت پائیں گی۔اس لئے ضروری تھا کہ جب بنی اسرائیل آسمانی بادشاہت سے محروم کر دیئے گئے تو نبوت حضرت ابراہیم کی دوسری شاخ بنی اسمعیل میں جاتی۔اس لئے وہ نبی بنی اسمعیل سے ہی آنا تھا اور یہود سے نبوت چھین لئے جانے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ مسیح سے پہلے تو کثرت سے ان میں نبی آئے لیکن ان کے بعد دو ہزار سال میں ان میں سے ایک بھی نبی نہ ہوا۔(3) اس پیشگوئی میں جو علامات بیان کی گئی ہیں وہ سب کی سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی گئی ہیں۔