حیات شمس

by Other Authors

Page xxxiv of 748

حیات شمس — Page xxxiv

xxxiii ہے، رزق خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ تمہارے باقی رزق میں برکت ڈال دے گا۔چنانچہ ربوہ میں تمام دکانوں میں سگریٹ بیچنی بند ہوگئی۔اس عرصہ میں کئی احباب نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی۔میرے نانا جان محترم خواجہ عبید اللہ صاحب جو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے اور وہ تمام عمر حقہ پیتے رہے تھے لیکن صرف کھانے کے بعد۔اس کے علاوہ کسی وقت میں ہم نے انہیں حقہ پیتے نہیں دیکھا۔اپنی کسی پیٹ کی بیماری کی وجہ سے صرف کھانے کے بعد چند منٹ پیتے تھے لیکن اس موقعہ پر آپ نے بھی حقہ نوشی ختم کر دی اور اپنی وفات تک دوبارہ حقہ نہیں پیا۔والد صاحب کی وفات کے بعدا گرچہ چند سالوں کے بعد دوبارہ سگریٹ بیچنے کی اجازت ہو گئی لیکن آپ کی وفات تک آپ نے اس پر پابندی جاری رکھی۔ہمارے والد صاحب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ان کی ساری اولاد خدا تعالیٰ کے فضل سے مختلف طریقوں سے جماعت کی خدمت انجام دے رہی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خواہش کے مطابق کہ ہر خاندان میں ایک بیٹے کو وقف کیا جائے آپ نے میرے چھوٹے بھائی منیر الدین شمس صاحب کو وقف کیلئے پیش کیا۔وہ لندن میں ایڈیشنل وکیل الاشاعت کے طور پر خدمات بجالاتے رہے ہیں اور آجکل ایڈیشنل وکیل التصنیف کے طور پر لندن میں خدمات بجا لا رہے ہیں۔اس سے پہلے وہ لندن میں بطور نائب امام مسجد فضل لندن اور مبلغ بھی رہے اور کینیڈا میں امیر ومشنری انچارج کے فرائض بھی ادا کئے۔ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر صلاح الدین صاحب شمس اپنی وفات کے وقت جماعت احمدیہ زائن Zion کے صدر تھے۔زائن وہ شہر ہے جسے جان الیگزینڈرڈوئی نے بنایا تھا۔یہ وہی ڈوئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں ترقی کے عروج سے قعر مذلت میں جا گرا تھا۔ہمارے بڑے بھائی جان کو بہت سے احمدی احباب کو زائن دکھانے اور اس کا تعارف کروانے کا موقعہ ملتا رہا اور اس میں وہ بہت خوشی محسوس کرتے تھے۔اسی طرح دوسرے بھائی بھی مختلف عہدوں پر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔خاکسار کو بھی اللہ تعالیٰ نے موقعہ بخشا کہ مختلف طریق سے جماعت احمدیہ کی خدمت کرسکوں۔امریکہ پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد ہی جماعت شکاگو کا جنرل سیکرٹری بنے کی توفیق ملی۔1975ء میں کچھ احمدی احباب شکا گوشہر کے گردونواح میں رہنے لگے تو وہاں جماعت کا صدر مجھے چنا گیا۔حالانکہ میں عمر میں سب احباب سے کم تھا لیکن انہوں نے یہ کام میرے سپرد کیا۔1987ء کے آخر میں شکا گوشہر