حیات شمس

by Other Authors

Page xxviii of 748

حیات شمس — Page xxviii

xxvii ماہ کی تھیں جب آپ بطور مبلغ لندن تشریف لے گئے۔اگرچہ میں بڑے بھائی سے قریباً بارہ سال چھوٹا ہوں لیکن تمام بچوں میں اپنی عمر کا سب سے زیادہ عرصہ اباجان کے ساتھ گزارنے کا مجھے ہی موقعہ ملا۔1946ء میں جب والد صاحب لندن سے واپس آئے تو ایک سال کے اندر ہی پاکستان معرض وجود میں آگیا اور ہمارے سب گھر والے قادیان سے لاہور آگئے اور اس کے بعد ربوہ بننے پر وہاں مقیم ہوئے۔ہمارے ربوہ کے رہائش کے زمانہ میں میرے بڑے بھائی لاہور میں پڑھائی کی غرض سے رہے اور اس کے بعد میو ہسپتال میں ملازمت کے سلسلہ میں وہیں رہے اور پھر اس کے بعد امریکہ چلے گئے اسلئے ان کو والد صاحب کے ساتھ رہنے کا زیادہ موقعہ نہیں ملا۔ہماری بڑی بہن کی شادی ہوگئی تو وہ بھی ربوہ سے منتقل ہو گئیں اس طرح سے ان کو بھی اتنے زیادہ سال ان کے ساتھ رہنے کا موقع نہیں ملا۔چونکہ میں ربوہ میں رہا اور وہیں سکول اور کالج میں پڑھا اس لئے قدرتی طور پر تقریباً انیس سال کی عمر تک انہی کے ساتھ رہا۔جب میں وہاں سے امریکہ آیا تو اس کے تقریباً تین ماہ بعد ان کی وفات ہوگئی اور اس طرح میرے چھوٹے بھائیوں کو ان کے ساتھ مجھ سے سے زیادہ رہنے کا وقت نہ ملا۔تربیت والد صاحب ہمیشہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کے ایک قول کا حوالہ دیا کرتے تھے کہ ماں باپ کو چاہئے کہ اپنے سب سے بڑے بچے کی تربیت صحیح طرح سے کریں تو باقی بچے خود بخود تربیت یافتہ ہو جائیں گے۔اس کا حوالہ دے کر مجھے نصیحت کرتے تھے کہ میں سب سے بڑا ہوں اس لئے مجھے یہ ذمہ داری سمجھنی چاہئے۔میں مذاقا بحث کرتا تھا کہ سب سے بڑا تو بڑا بھائی ہے میں نہیں ہوں لیکن وہ کہتے تھے وہ تو لاہور میں رہتا ہے اس لئے یہاں اس گھر میں تم ہی بڑے ہو۔انہوں نے دو طریق سے مجھے کافی علم حاصل کرنے میں مدد کی۔جب آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کا سیٹ تیار کروانا شرع کیا تو وہ ایک بہت بڑا کام تھا۔اس وقت کا تب کتاب کو پیلی روشنائی سے لکھتے تھے۔اس کی پروف ریڈنگ کرنی پڑتی پھر اس کی تصحیح ہوتی اور پھر پلیٹوں پر چسپاں ہوکر پریس میں کتاب چھپتی تھی۔والد صاحب نے مجھے اپنے ساتھ پروف ریڈنگ کیلئے لگایا۔مجھے ایک آنہ فی صفحہ دیتے تھے۔چنانچہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصلی کتاب سے پڑھتا اور آپ کا تب کے کاغذ پر اصلاح کرتے۔جب عربی یا فارسی کا حصہ آتا تو خود ہی ٹھیک کرتے کیونکہ مجھ سے پڑھی نہیں جاتی