حیات شمس

by Other Authors

Page 216 of 748

حیات شمس — Page 216

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس کی تبلیغ کو دنیا میں پہنچانے کا خود خدا تعالیٰ فیصلہ کر چکا ہے۔بمفت ایں اجر نصرت را دہندت اے اخی ورنہ قضائے آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا فلسطین میں مسیحیت کا مقابلہ 200 الفضل قادیان 21 اگست 1928ء) تبلیغ مسیحی سے جو ضر ر مسلمانوں کو ہند میں دینی لحاظ سے پہنچا وہ برادران ہند پرمخفی نہیں ہے۔ہزار ہا اشخاص جن کے باپ دادا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک نام پر اپنے اموال ونفوس فدا کرنا اپنے لئے موجب فخر وسعادت خیال کرتے تھے، مسیحیت کا شکار ہو گئے۔پھر یہی نہیں کہ انہوں نے اسلام جیسے صلح کن اور کامل مذہب کو چھوڑا بلکہ اس خیر البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو کہ حسن و احسان کا مجسم نمونہ تھا سب وشتم اور برا بھلا کہنا کار ثواب سمجھا۔تب خدا تعالیٰ کی صفت غیور جوش میں آئی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کو مبعوث کیا۔آپ نے تبلیغ مسیحی کا پورے زور سے مقابلہ کیا اور اس سیلاب کو جو اسلام کے لئے وبال جان ہو رہا تھا بڑے بڑے مضبوط بند لگا کر روک دیا اور ایک ایسی جماعت تیار کر دی جو تبلیغ مسیحی کا پوری طرح مقابلہ کر سکے۔اب چند سالوں سے عربی ممالک میں تبلیغ مسیحی زور پکڑ رہی ہے۔عیسائیوں کا مصمم ارادہ ہے کہ کوئی جگہ کوئی شہر اور کوئی دیہہ ایسا نہ رہے جس میں تبلیغ نہ کی جائے اور وہ یہ عزم کئے ہوئے ہیں کہ اس سلسلہ کو حجاز میں پہنچائیں۔ابھی چند ماہ گذرے ہیں کہ مختلف ممالک کے پادریوں اور لیڈروں کی قدس میں مؤتمر ہوئی تھی جس کا ذکر اخبارات میں آچکا ہے مگر مسلمان ابھی تک تبلیغ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور مقابلہ بالمثل کرنے کیلئے تیار نہیں بلکہ بات کا جواب پتھر یا اینٹ سے دینا چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کئی مسلمان عیسائی بھی ہو چکے ہیں۔الهدية السنية للفئة المبشرة المسيحية(پہلا ٹریکٹ ) جب سے بحکم حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ فلسطین میں پہنچا ہوں بہت سے مسیحیوں سے مسلمانوں کی موجودگی میں مناظرات ہوئے ہیں جن سے مذبذب مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا۔بعض اشخاص پادریوں کے پاس جایا کرتے تھے اور ان کے زیر اثر تھے وہ میرے پاس آتے رہے۔میں نے