حیات شمس

by Other Authors

Page 215 of 748

حیات شمس — Page 215

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 199 کے سپرد کر دیں اور کہا کہ یہ آپ کا کام ہے اس کے متعلق رائے ظاہر کریں اور آپ نے خود اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔پھر علماء میں اس کے متعلق اختلاف ہوا۔بعض کہیں کہ جو کچھ اس نے لکھا ہے سچ ہے بعض کہیں کہ ایسی باتیں کہنے والا کافر ہے مگر میں استخارہ کر کے اور بعض خوا ہیں دیکھ کر آپ پر ایمان لے آیا۔چنانچہ میں اسی وقت سے آپ کو امام الوقت مسیح موعود مانتا ہوں۔4 جون کو پھر وہ میرے پاس ہوٹل میں ملاقات کے لئے آئے۔میں نے ان سے دریافت کیا کون سی کتابیں وہاں پہنچی تھیں۔انہوں نے کہا ہم نے اسی وقت چند عبارات حفظ کی تھیں۔جب انہوں نے عبارت سنائی تو وہ کتاب الاستفتاء کی تھی۔پھر انہوں نے قصیدہ اعجاز یہ کے شعر سنائے۔یہ شیخ نہایت عابد زاہد ہیں۔وادی میں ایک جگہ چند درخت ہیں وہیں ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں۔ہر وقت ذکر اللہ میں مشغول اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہتے ہیں۔ہر روز روزہ رکھتے ہیں۔میں نے کہا حدیث میں تو داؤدعلیہ السلام کے روزوں کو خیر الصیام کہا گیا ہے۔کہنے لگے علاج کے طور پر بھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روزوں کا ارشاد فرمایا ہے۔قرآن مجید کی تفسیر صوفیانہ طریق پر کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بہت سی آیتوں سے صداقت ثابت کرتے ہیں۔ان کی عمر پچاس سال کے قریب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔اس ملاقات کے بعد مجھے قدس جانا پڑا۔پھر دیر تک ان سے ملاقات نہ ہوسکی مگر ان کا ایک شاگرد میرے پاس آتا رہا۔13 جولائی کو وہ میرے مکان پر جمعہ کی نماز کیلئے تشریف لائے تو نماز ادا کرنے کے بعد کہنے لگے اگر چہ میں پہلے سے ایمان لایا ہوا ہوں مگر پھر آپ کے ہاتھ پر تجدید عہد کرتا ہوں۔تب وہ اور دو شخص اور ان کے ساتھی سلسلہ میں داخل ہوئے۔شیخ کا نام الحاج محمد المغر بی الطرابلسی ہے اور باقی دو کے نام سلیم بن محمد الربانی اور یعقوب محمود ابو عباس ہیں۔ایک اور شخص نیازی قدوی حافظ اہالی عکہ سے 18 جولائی کو سلسلہ میں داخل ہوئے۔اللہ تعالیٰ سب کو استقامت عطا فرمائے۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ نہ معلوم کتنے صلحاء ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کے جنوں کی طرح پوشیدہ ہیں جن کا ہمیں علم نہیں مگر وہ آپ پر ایمان لاچکے ہیں۔کیوں نہ ہو، خدا تعالیٰ کا آپ سے وعدہ ہے ” میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا“ تذکرہ، بار چہارم،2004ء،صفحہ 260] اب جماعت احمدیہ کو تبلیغ کا موقعہ اسی لئے دیا گیا ہے کہ تا وہ ثواب میں شریک ہو جائے ورنہ آپ