حیات شمس

by Other Authors

Page 142 of 748

حیات شمس — Page 142

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 142 اس وقت تلوار نفع نہیں دے گی بلکہ وقت دعا کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فیصلہ جو خطبہ الہامیہ کے آخر پر ہے اخبار ابابیل میں شائع کرا دیا گیا ہے۔خاکسار روزانہ شہر میں جاتا گفتگو ہے۔مکان شہر سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر ہے وہاں لوگوں سے اکثر سلسلہ کے متعلق گے کرتا ہوں۔اگر چہ یہاں کے لوگ پہلے ہی سے دینی مسائل سننے کے عادی نہیں پھر خصوصاً ان ایام میں جب کہ ایک جگہ سیاسی مسائل کا ذکر ہوتا ہے ان کو دینی باتیں سنانا کونین مکسچر کی ڈوز پلانا ہے مگر الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ محنت ضائع نہیں کرتا ہے۔اس ہفتہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور نوجوان کو سلسلہ میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ان کا نام حسن احمد ہے۔جس دن احمدی ہؤا اسی دن اپنے والد اور اپنے بڑے بھائی کو بھی احمدیت میں داخل ہونے کیلئے کہا اور احمدیت کی بھی تبلیغ کی۔یہاں ایک مشہور ڈاکٹر ہے جس کا نام محمد طاہر ہے ان کے پاس قرآن کریم کی تفسیر کوروزانہ بیان کرتا تھا اب تو ابتدا سے ہی درس شروع کر دیا ہے۔ایک دن خیال آیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اعتراضات کو دور کر دیا ہے جو اسلام پر کئے جاتے تھے۔آریہ سماج اسلام پر اعتراض کرتی ہے کہ قرآن کریم ایک الہامی کتاب نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ عربی زبان میں ہے اور الہامی کتاب کسی قوم کی زبان نہیں ہوسکتی ہے۔اگر کسی قوم کی زبان میں ہو تو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔اس سے پکش پات (طرفداری) لازم ہوگی اور قرآن کریم کو الہامی ماننا لازمی آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عربوں کی رعایت کی کہ عربی میں قرآن اتارا اسلئے کہ وہ بغیر محنت کے سمجھ سکیں بہ نسبت دوسرے ملک کے رہنے والوں کے مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہند میں بھیج کر ہندیوں کو عربوں کا استاد بنا دیا تا آریہ سمجھ لیں کہ قرآن کریم کا فہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کو دیا جاتا ہے محض زبان پر موقوف نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ أَوْرَثْنَا اللْكِتَابَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا (فاطر:33) اللہ تعالیٰ کے بندے ہی کتاب کے وارث ہوتے ہیں چاہے وہ عرب کے ہوں یا چاہے وہ چین کے باشندے ہوں۔جاپان کے رہنے والے ہوں یا ہند کے۔اللہ تعالیٰ کا ہند پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اس میں مسیح موعود کو بھیجا جس نے از سر نو آکر قرآن مجید کا علم سکھایا اور اللہ تعالیٰ کی محبت اور ایمان سے دلوں کو معمور کیا۔الفضل قادیان 18 دسمبر 1925 ء)