حیات شمس — Page 141
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 141 کو نہیں چھپا سکتے ہیں۔ہم نے جو اس کام کو اختیار کیا ہے اور وطن چھوڑ کر یہاں آئے ہیں ہم ان مصائب سے غافل نہیں ہیں۔ہمیں وہاں ہی معلوم تھا کہ ہمیں تکلیفیں دی جائینگی ، ہماری مخالفت کی جائیگی۔کہنے لگا میری یہ مراد نہیں کہ کوئی جسمانی تکلیف دے گا۔میں نے جواب دیا ہم جسمانی تکلیفوں سے بھی گھبراتے نہیں۔حق کے لئے ہم جان تک دینے کیلئے بھی تیار ہیں : لا نتـقـى قـوس الخطوب ولـا نبــالــي مـرجـدا لا نتـقـى نـوب الـزمــان ولـا نـخــاف تهـددا و نمد في اوقات افات الى المولى يدا حوادثات زمانہ اور اس کے مصائب سے ہم نہیں ڈرتے اور نہ ہی کسی دھمکی کی پرواہ کرتے ہیں اور مصائب و آفات کے وقت ہم اپنے مولیٰ کے آگے ہاتھ لمبے کرتے ہیں۔یہ سن کر چپ ہو کر چلا گیا۔یہاں جماعت اس وقت تک وسیع طور پر نہیں پیدا ہو سکے گی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لٹریچر کو سامنے نہیں لایا جائے۔وہ ہم سے بھوکوں کی طرح لٹریچر مانگ رہے ہیں مگر ہمارے پاس سوائے چند کتابوں کے ایسی کتابیں نہیں جو مفت تقسیم کی جائیں۔یہ ملک اس لحاظ سے کہ عربی ملک ہے، ہندوستان سے زیادہ اشاعت چاہتا ہے۔(الفضل قادیان 3 دسمبر 1925 ء) کونین کی مکسچر ڈوز حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس محرر 200 نومبر 1925 ء) دروز اور فرانسیسیوں کے درمیان جنگ جاری تھی دمشق کے حالات بھی مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ارد گر د عصابات اور ثوار پھر رہے ہیں لوگوں پر پریشانی کے آثار ظاہر ہیں امن کے حالات پیدا نہیں ہورہے ہیں۔اہالیان دمشق پکار اٹھے تھے کہ ایسی بلاء دمشق پر کبھی نہیں آئی۔بہت سے لوگ دمشق چھوڑ کر بیروت اور مصر کی طرف روانہ ہو گئے۔اس لئے موجودہ حالات میں زبانی تبلیغ کم ہوتی ہے۔گذشتہ ہفتہ سے مکر می شاہ صاحب (سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ) نے پیارے آقا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے لیکچر احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا عربی ترجمہ کرنا شروع کر دیا ہے جو تھوڑا تھوڑا کر کے اخباروں میں چھپنے کیلئے علیحدہ بھیجا جا رہا ہے اور علاوہ ازیں بلائے دمشق کا مضمون لکھا ہے جس میں آپ نے حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی بلائے دمشق کا ذکر بھی کیا ہے اور بتایا ہے کہ