حیات شمس

by Other Authors

Page 94 of 748

حیات شمس — Page 94

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 94 ہی ملے گی۔آپ کو مجھ سے خاص طور پر محبت تھی تبلیغی دوروں میں اکثر دفعہ آپ مجھے اپنے ہمراہ لے جایا کرتے اور جب ہم مبلغین کلاس میں پڑھتے تھے اس وقت دوسرے دن جو درس قرآن مجید اور احادیث کا ہونا ہوتا اس کی تیاری کیلئے آپ مجھے بلوایا کرتے اور میں آپ کو تفسیریں اور احادیث کی شروح سنایا کرتا جس سے مجھے از حد فائدہ ہوا۔آپ کے ساتھ میں نے دہلی، مونگھیر ، ڈیرہ دون منٹگمری، پٹیالہ، سیالکوٹ، لاہور، نارووال، گجرات ، جلالپور جٹاں جہلم، مالیر کوٹلہ وغیرہ شہروں کا دورہ کیا۔“ (ماہنامہ الفرقان ربوہ دسمبر 1960 ، صفحہ 26) اللہ تعالیٰ حضرت حافظ صاحب موصوف کو اعلی علیین میں بلند سے بلند مقام عطا فرمائے۔حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل آپ پچیس مارچ 1881ء بمقام گولیکی ضلع گجرات پیدا ہوئے۔مارچ 1897ء میں سیدنا حضرت مسیح موعود کی بیعت کرنے کی سعادت حاصل کی۔دسمبر 1906ء میں قادیان ہجرت کی۔حضرت قاضی ظہور الدین صاحب اکمل کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔تحریر و تقریر اور احمد یہ شاعری میں آپ کا نام بہت معروف ہے۔آپ کے خاندان میں احمدیت آپ کے والد ماجد حضرت میاں امام الدین صاحب فیض گولیکی کی بیعت سے آئی۔آپ کو صحابی ابن صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔آپ نے پچیس سے زائد نہایت علمی کتب تحریر کیں۔ذکر المہدی ، ظہورالمهدی، ظہور اسیح، محبت، قبولیت دعا کے چھیاسی گر ، الواح الہدی ، سنت احمد یہ نغمہ اکمل اور کئی دیگر کتب خاصی مقبول ہوئیں۔آپ کی بعض ابتدائی کتب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پسند فرمائیں۔تشخید الاذہان ، ریویو آف ریلیجنز ، مصباح، احمد یہ گزٹ ، اخبار بدر قادیان اور الفضل کیلئے آپ کی خدمات یادگار ہیں۔جماعتی اخبارات و جرائد میں آپ کے بیسیوں علمی مضامین شائع ہوئے نیز تقسیم وطن سے قبل ہند کے کئی اردو اخبارات و جرائد جیسے قومی رفیق ، چودھویں صدی ، کرزن گزٹ، پنجاب آرگن، انتخاب روزگار، اردو اخبار، دہلی پنج ، سراج الاخبار اور گلزار ہند وغیرہ میں آپ کے علمی و ادبی مضامین شائع ہوتے رہے۔ابتداء میں حضرت مولانا شمس صاحب کی علمی و تحریری ترقی میں آپ کی دعا ئیں اور حوصلہ افزائی بھی شامل ہے جس کا ذکر کتاب ہذا میں بعض مقامات پر کیا گیا ہے۔حضرت مولانا شمس صاحب کے