حیات شمس — Page 54
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 54 جمال دین صاحب مرحوم اور میرے والد صاحب مرحوم اور میرے چچا میاں خیر دین صاحب نے بیعت کر لی۔بعد میں میرے دادا اور دادی صاحبہ نے بھی بیعت کر لی۔بیعت کے بعد جوں جوں عرصہ گزرتا گیا آپ کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بڑھتا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس قسم کی محبت اور شفقت کا ان تینوں بھائیوں سے اظہار کیا ہے اس کا اندازہ لگانا میری طاقت سے باہر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی سے پہلے جب قادیان آتے تو اپنے رشتہ داروں کے ہاں کھانا کھاتے لیکن دعوی کے بعد جب ان کی آمد ورفت سلسلہ کے کاموں میں حصہ لینے کی وجہ سے زیادہ ہوگئی تو کسی گفتگو کے سلسلہ میں جیسا کہ میں نے والد صاحب سے سنا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب سے آپ ہمارے مہمان ہیں۔والد صاحب فرماتے تھے کہ اس کے بعد جب ہم قادیان آتے تو اکثر حضور کے دستر خوان اور لنگر سے ہی کھاتے۔ظاہری لحاظ سے تینوں بھائی غریب تھے لیکن دل کے غنی تھے اور ہر حال میں قانع اور خدا تعالیٰ کے شکر گزار تھے۔بے شک وہ غریب تھے لیکن اس غربت پر ہزاروں امارتیں قربان۔بڑے بڑے امیروں، دولتمندوں اور بادشاہوں کے نام دنیا سے مٹ جائیں گے اور ان کا کوئی نام لیوا نہ ہوگا لیکن یہ تینوں غریب بھائی اور ان کے دوست منشی عبد العزیز صاحب آسمانی بادشاہت کے فرزندوں کا نام رہتی دنیا تک جریدہ عالم پر ثابت و قائم رہے گا۔ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما ہمارے گاؤں سیکھواں میں احمد یہ جماعت تینوں بھائیوں کی تبلیغ سے قائم ہوئی۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر فرماتے ہیں۔اس گاؤں میں احمدیت کا محرک اور بانی ایک کشمیری خاندان ہے اور وہ تین بھائی میاں جمال الدین ، میاں امام الدین ، خیر الدین ہیں۔حضرت اقدس کے ساتھ ان کو بہت محبت اور اخلاص ہے۔یہ تینوں بھائی ایک دوسرے سے اخلاص میں بڑھے ہوئے ہیں۔بڑے مستعد اور جواں ہمت ہیں۔ان کے ساتھ ہی ان کا ایک پرانا دوست اور دینی بھائی منشی عبد العزیز پٹواری سیکھواں ہے۔یہ شخص اپنے اخلاص کا آپ نمونہ اور نظیر ہے۔“