حیات شمس

by Other Authors

Page 53 of 748

حیات شمس — Page 53

۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس حزن و خوشی کے دو مختلف جذبات 53 مجھے اس افسوسناک خبر سے اضطرابا نہ حزن ہوا۔اس خیال سے کہ ہمارے خاندان سے ایک نافع وجود اٹھ گیا جو ہر روز ہمارے لئے دعائیں کرتا تھا۔لیکن دوسری طرف یہ بھی خیال آیا کہ آپ ایک خوش قسمت انسان تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود اور مہدی معہود کا زمانہ پایا جس کے دیکھنے کی کروڑوں انسانوں نے خواہش کی لیکن وہ اپنی خواہش پورا کئے بغیر اس دنیا سے چل بسے۔لیکن والد صاحب مرحوم نے نہ صرف اس مبارک موعود کا زمانہ ہی پایا بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو ان کے اولین صحابہ اور خدام سے ہونے کا شرف بخشا اور خُدا کے مقدس مسیح نے ان کے حق میں اپنے قلم سے تحریر فرمایا کہ انہوں نے بیعت کے عہد کو کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے پورا کر دکھایا۔پھر مصلح موعود کے خلافت کے عہد مبارک سے بھی ایک لمبا زمانہ دیکھنے کا موقعہ بخشا اس لئے ان کے حسن خاتمہ پر نظر کرتے ہوئے دل میں ایک خوشی کا جذ بہ بھی ہے کیونکہ آپ کا سانحہ ارتحال شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کے شعر کا مصداق ہے۔53 عروسی بود نوبت ما تمت اگر بن نکوئی بود خاتمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذرہ نوازی والد صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اولین صحابہ میں سے تھے۔دعوئی مسیحیت سے قبل بھی حضرت اقدس کے پاس آیا جایا کرتے تھے۔ان کی قادیان میں کثرت آمد و رفت کی وجہ تعلقات رشتہ داری بھی تھی اس لئے کہ ہماری دادی مرحومہ (حضرت شرفوبی بی) جو بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں ، وہ میاں شریف کشمیری کے والد صاحب کی پھوپھی تھیں اس لئے جب قادیان آتے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ملاقات کرتے۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لدھیانہ میں بیعت شروع کی تھی۔جب آپ اس سفر سے واپس تشریف لائے اور والد صاحب کو حضور کی بیعت لینے کا علم ہوا، تینوں بھائیوں