حیات شمس

by Other Authors

Page 49 of 748

حیات شمس — Page 49

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 49 تمام حالات عرض کرنے کے بعد مناظرہ کی اجازت مانگی۔اس پر حضور نے پھر یہی فرمایا ” مناظرہ کرنے کی اجازت نہیں“۔میاں صاحب فرمایا کرتے تھے ہم نے گاؤں سے باہر سارا دن گذار امگر مناظرہ سے انکار کر دیا گو مخالف جو مونہہ میں آیا کہتے رہے۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فرمان کا یہ اثر ہوا کہ چند غیر احمدی شرفاء نے ان مولویوں کو ان کی بدزبانی کی وجہ سے خود گاؤں سے نکال دیا اور دوسرے تیسرے دن جمعہ کی نماز کیلئے پندرہ سولہ آدمی قادیان گئے تا یہ دیکھیں کہ جس شخص کو یہ مولوی بُرا کہتے ہیں وہ واقعی ایسا ہے؟ سب کے سب دوست جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت کے لئے عرض کیا۔اس طرح وہ لوگ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔میاں صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر مناظرہ ہوتا تو شاید اس وقت ایک بھی احمدی نہ ہوتا۔چونکہ حضور کی زبان میں برکت ہے اس لئے مناظرہ نہ ہونے کی صورت میں غیر احمدی مولویوں کی بد زبانی کا بُرا اثر پڑا اور احمدیوں کی شرافت کا اچھا اثر ہوا اور کئی لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔روز نامه الفضل قادیان 23 مئی 1941 ء صفحہ 3) محترم شمس صاحب کے والد صاحب اپنے بھائیوں میں منجھلے بھائی تھے۔نہایت سادہ مزاج تھے۔پختہ ایمان رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھائیوں کے ساتھ اکثر ملاقات رہتی تھی اور ایک اسلامی رنگ ان لوگوں پر چڑھا ہو ا تھا۔یہ دینی تقاریب میں شامل ہوتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف جو مقدمات بنائے جاتے تھے ان کی پیروی میں حضور علیہ السلام کی ہمرکابی کا شرف ان سب کو حاصل تھا۔(سیرت حضرت مولانا جلال الدین شمس، از محمد منور خان، غیر مطبوعہ ) حضرت حکیم محمد اسماعیل ابن حضرت میاں جمال الدین صاحب سیکھوانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ: میں چونکہ فیض اللہ چک کا رہنے والا تھا اور سیکھواں وہاں سے قریب ہی تھا اس لئے جب ان لوگوں کی خدمات کی ضرورت پڑتی تو مجھے بھجوایا جاتا۔تو میں صبح سویرے جا کر بتا دیتا کہ حضور نے آپ کو طلب فرمایا ہے تو یہ صاحبان اسی وقت قادیان روانہ ہو جاتے اور ہمیں اپنے گرم لحافوں میں لپیٹنے کی ہدایت کر جاتے کہ آپ لوگ سردی میں آئے ہیں کہیں سردی نہ لگ