حیات شمس — Page 663
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس خطبہ جمعہ وو اثنائے قیام لنڈن 7 جولائی 1946ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کوئی عہدہ دیا ہے۔نواب میاں عبداللہ خان صاحب فرماتے ہیں کہ حضور کا منشاء تھا کہ آپ خطبہ جمعہ بھی پڑھا کریں گے۔میں اپنے دل میں کہتا ہوں کہ میں نے اپنی خوابوں میں دیکھا تھا ( اس سے پہلے ایک دو خوابوں میں ایسا دیکھا تھا ) کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خطبہ جمعہ پڑھنے کے لئے ارشاد فرمایا اور میں نے خطبہ پڑھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس خواب کو بھی سچا کر دیا اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ارشاد کے مطابق میں نے کئی خطبات جمعہ پڑھے۔فالحمد للہ علی ذالک۔دشمن پر بجلی گری اور ہم پر خدا تعالیٰ کا انعام ہوا۔“ 631 نومبر 1957ء میں جبکہ مشرقی پنجاب کے مسلمان پاکستان کو ہجرت کر رہے تھے۔اس وقت میں قادیان میں امیر تھا۔میں سارا بائی مرد ولا مسٹر گاندھی جی کے نمائندہ کے طور پر حالات دیکھنے کے لئے قادیان تشریف لائیں۔انہیں ہماری طرف سے ایک درخواست دی گئی جس میں یہ بھی ذکر کیا گیا تھا کہ احمد یہ ہوزری کا سامان کمبل وغیرہ خود مجسٹریٹ کی موجودگی میں لوٹا گیا اور اس پر بحیثیت پریذیڈنٹ جماعت میرے دستخط تھے۔وہ درخواست مس سارا بائی مرد و لا اس میز پر بھول گئیں جو مجسٹریٹ متعین قادیان استعمال کیا کرتا تھا۔مجسٹریٹ نے جب وہ درخواست پڑھی تو آگ بگولا ہو گیا۔جب بازار میں راؤنڈ کے لئے آیا تو اس نے غصہ میں کہا کہ میں جلال الدین شمس کو اس شکایت کا مزہ چکھاؤں گا اور قید کی بھی دھمکی دی۔قبل ازیں مکرم چوہدری فتح محمد صاحب اور مکرم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو قید کر چکے تھے۔اسی رات صاحبزادہ میاں مظفر احمد صاحب کو جو اس وقت سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر لگے ہوئے تھے ٹیلیفون پر اطلاع دی گئی اور میں جب رات کو بستر پر لیٹا ( حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کی بیٹھک میں سویا کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا تو قادر ہے جو چاہے کر سکتا ہے۔میں اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔نُؤْمِنُ بِكَ وَ نَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ دعا کرتے کرتے میں سو گیا۔میں نے دیکھا کہ مجھ پر وہ حالت طاری ہوئی ہے جو الہام کے وقت