حیات شمس — Page 659
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس صداقت احمدیت کے متعلق چند رویا 627 حضرت مولانا موصوف کے بعض رؤیا کتاب ہذا میں بعض مقامات پر نظر آئیں گے۔ذیل کے رویا وکشوف آپ نے ایک خاص تحریک کے تحت تحریر کئے تھے اس لئے انہیں علیحدہ طور پر درج کیا جا رہا ہے۔از قلم مولانا جلال الدین شمس سابق مبلغ بلا دعر بیده و دیار غربیه ) ایک شامی احمدی کا خواب 1927ء کا واقعہ ہے کہ السید ابوعلی مصطفی نو یلاتی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے اور ان کے بڑے بھائی نے ابھی بیعت نہیں کی تھی۔اس نے خواب میں دیکھا کہ ایک عالیشان مکان ہے اور اس کے وسیع صحن میں تین کرسیاں رکھی ہیں جن میں سے ایک پر خاکسار بیٹھا ہے اور میرے دائیں بائیں کرسیوں پر سید منیر الحصنی اور السید ابوعلی مصطفی نو یلاتی بیٹھے ہوئے ہیں اور قریب ہی ایک طرف ایک کمرہ میں گدھے کا بچہ ہے اور وہ ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے۔خَلِيْكَ مَا اَنْتَ عَلَيْهِ۔یعنی جو تمہارا عقیدہ ہے تم اسی پر قائم رہو۔انہوں نے اس کی تعبیر دریافت کی تو میں نے کہا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں علماء سوء کو حمار یعنی گدھے سے تشبیہ دی ہے۔گدھے کے بچے سے مراد چھوٹا عالم یا کسی عالم کا شاگرد ہے۔چنانچہ اسی دن یا ایک دن کے بعد وہ ایک دکان پر بیٹھے تھے اور دینی گفتگو ہو رہی تھی کہ شیخ علی دقت کا ایک شاگر داس دکان پر آیا اور اس نے ان سے مخاطب ہوکر یہی الفاظ کہے کہ خَلِیکَ مَا أَنْتَ عَلَيْهِ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کو پہلے ہی خواب میں دیکھ چکا ہوں کہ آپ نے مجھ سے یہ الفاظ کہے ہیں اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔دیکھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مجھے خواب میں دکھا دیا۔اس کے بعد وہ بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہو گئے۔ایک طرابلسی مغربی شیخ کی قبول احمدیت 3 جون 1928ء کو میں اپنے چند احمدی دوستوں کو لے کر کرمل پہاڑ پر گیا۔وہاں سے قریب ہی ایک وادی تھی۔بعض دوستوں نے کہا چلو وادی میں اُتریں۔وہاں ایک ٹھنڈے پانی کا چشمہ