حیات شمس — Page 629
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 597 جب حضرت مولانا شمس صاحب الشركة الاسلامیہ کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے تو اس وقت ربوہ میں نہ بھلی تھی نہ آرام دہ کمرہ اور خلافت لائبریری بھی اس وقت مکمل نہ تھی ، آپ نے ملفوظات اور روحانی خزائن کے وسیع پرا جیکٹ کو تن تنہا شروع کیا۔خود ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو صحت کے ساتھ کتابت کرواتے ،خود ہی کا پیاں پڑھتے اور خود ہی پروف ریڈنگ کرتے۔پھر ان کتب کا تعارف اور انڈیکس مرتب فرماتے۔ضیاء الاسلام پریس بھی الشرکة کے ماتحت تھا۔اس کے جملہ امور کی انجام دہی بھی فرماتے۔مجھے یاد ہے کہ 1956ء میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے تفسیر صغیر کا کام شروع کیا۔حضور جابہ میں باوجود اپنی بیماری کے قرآن کریم کا یہ معرکۃ الآراء ترجمہ فرماتے۔کا تب وہاں ہی اسکی کتابت کرتا اور حضرت مولانا شمس صاحب روزانہ ربوہ سے صبح بس پر جا بہ جاتے اور وہاں سے کتابت شدہ کا پیاں لا کر اگلے دن ضیاء الاسلام کے پریس سے اس کے پروف لے کر خود جابہ پہنچاتے۔یہ روزانہ کا سفر کئی ماہ جاری رہا مگر حضرت مولانا شمس صاحب بشاشت سے یہ خدمت انجام دیتے رہے۔جب آپ ناظر اصلاح وارشاد مقرر ہوئے تو مجھے آپ کے قریب رہنے کا موقعہ ملا۔آپ مربیان کرام کا بہت احترام فرماتے حالانکہ ان میں بہت سارے مربیان عمر میں ان کے بچوں کی طرح تھے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب دنیا میں جہاں بھی ہوتے ہر ہفتے دس دن کے بعد ان کا خط آپ کو آتا تھا۔اسی طرح انڈین فارن سروس کے مالک رام صاحب جو تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل ہیں، سید احمد برکات صاحب، یہ بھی انڈین فارن سروس میں تھے ،سر شہاب الدین کے فرزندمیاں نیم احمد پاکستانی فارن سروس اور ان کی اہلیہ دونوں شمس صاحب کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔یہ سب لوگ حضرت مولا نائمس صاحب کو دعا کیلئے لکھا کرتے تھے اور حضرت شمس صاحب باقاعدگی سے ہر ایک کا جواب دیتے تھے اور لندن کے ایسے احمدی جن کے حضرت مولانا شمس صاحب سے عقیدت مندانہ تعلقات تھے اکثر ان لوگوں کے خطوط آیا کرتے تھے۔حضرت شمس صاحب ایک طویل عرصہ لندن میں بطور مبلغ مقیم رہے۔چوہدری جلال الدین صاحب قمر نے مجھے بتایا کہ وہ بھی جنگ عظیم دوم کے زمانہ میں لندن میں ہی تھے۔ایک دفعہ انہوں نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنی طرف سے لکھا کہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس لندن میں بغیر بیوی بچوں کے طویل عرصہ سے رہ رہے ہیں ان کے حالات دیکھ کر میرے دل میں تحریک ہوئی ہے کہ میں حضور کی خدمت میں لکھوں کہ اب جبکہ جنگ بند ہو چکی