حیات شمس — Page 20
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس " 20 20 ” 1921ء کا واقعہ ہوگا۔حضرت میاں (شریف احمد ) صاحب مجھے فرمانے لگے کہ آپ لوگوں سے یہ حالات اکٹھے کریں کہ وہ احمدی کیونکر ہوئے۔یہ سلسلہ تبلیغی اور تربیتی طور پر بہت مفید اور موثر ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ نے ایک واقعہ بھی سنایا کہ (حضرت) ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب گڑ گا نواں نے سنایا تھا کہ عبداللہ آتھم کی وفات پر جب غلام فرید صاحب چاچڑاں والے نے اپنی غیرت کا اظہار فرمایا تو ان کی احمدیت کا باعث یہ واقعہ ہی ہو اتھا۔“ +1922 ) سیرت حضرت مرزا شریف احمد صفحہ 54) چنانچہ آپ کے ارشاد پر حضرت مولانا شمس صاحب نے ایسے حالات اکٹھے بھی کئے تھے۔9ستمبر 1922ء کو مولوی جلال الدین صاحب شمس، شیخ عبد الرحمن مصری اور مہاشہ فضل حسین صاحب، بنگہ ضلع جالندھر مباحثہ کیلئے تشریف لے گئے۔درس القرآن میں شمولیت $1923 الفضل قادیان 11 ستمبر 1922ء) سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یکم اگست 1922ء کو قادیان میں درس القرآن کا آغاز فرمایا۔اس درس میں شامل ہونے احباب کو مسجلین کا نام دیا گیا۔ان مسجلین کی سوافراد کی فہرست ، جن میں 45 قادیان اور 55 بیرونی احباب نے شرکت کی۔احباب قادیان کی فہرست میں حضرت مولوی شمس صاحب کا نام 22 ویں نمبر پر مرقوم ہے۔الفضل قادیان 10 اگست 1922ء) یکم فروری 1923ء کو حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس تبلیغ احمدیت کے سلسلہ میں جہلم تشریف لے گئے۔فروری 1923ء کو قادیان میں مجلس ارشاد کا جلسہ ہوا جس میں خواجہ جلال الدین صاحب شمس فاضل سیکھوانی نے اسلام کے کامل مذہب ہونے پر تقریر کی۔4 فروری کو جہلم میں آپ نے مسئلہ ختم نبوت پر تقریر کی اور ایک غیر احمدی اور ایک پیغامی نے سوالات کئے۔جوابات پا کر آخر میں شور ڈال کر چل دیئے ، کہنے پر بھی گفتگو کرنے کے لئے تیار