حیات شمس

by Other Authors

Page 601 of 748

حیات شمس — Page 601

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 569 حضرت مولانا صاحب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک زبر دست مناظر، مقرر اور مجمع پر چھا جانے والے بزرگ تھے۔تبلیغی میدان میں ہمیشہ اپنی علمیت کے نور اور فصیح البیانی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قوت قدسیہ کے طفیل دشمن کے چھکے چھڑاتے رہے۔شجاعت اور بہادری کا وہ جو ہر موجود تھا کہ پیغام حق پہنچانے کے لئے خطرناک سے خطر ناک حالات میں بھی گردن اونچی کر کے اور سینہ تان کر دشمن کا مقابلہ کرتے تھے اور جماعت کے لئے اپنا خون پیش کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔انصار اللہ کے لائحہ عمل میں تربیت کا خاص پروگرام ہوتا تھا جس کے لئے مرکز میں بھی اور باہر ضلعی سطحوں پر انصار اللہ کے تربیتی اجتماعات منعقد ہوتے تھے۔مجلس انصار اللہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ان اجتماعات میں مرکزی نمائندہ کے طور پر شریک ہوتے اور اپنی شیریں بیانی سے احسن رنگ میں تربیت کا فریضہ ادا کرتے۔خاکسار کو بھی ان کے ساتھ بعض سفروں میں ساتھ جانے کا موقعہ ملا۔شخصیت کا اثر بہر حال سامعین پر ضرور پڑتا ہے جن اجتماعات میں حضرت مولانا اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مرحوم جیسی شخصیات شامل ہوتیں ان کی حاضری معمول کی حاضری سے بہت بڑھ جاتی۔ان اجتماعات میں خاص طور پر ربوہ میں منعقد ہونے والے مرکزی اجتماعات کے موقعہ پر سوال و جواب کا پروگرام ضرور رکھا جاتا۔سوالوں کے جوابات دینے والے بزرگوں میں حضرت مولانا صاحب کا نام ضرور شامل ہوتا۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس خالد احمدیت کو اعلی علیین میں جگہ دے اور ان کی اولاد کونسلاً بعد نسل ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اعلی رنگ میں خدمت دین کی توفیق ( تا ثرات محررہ 14 جون 2006 ء۔حاصل کردہ مکرم منیر الدین صاحب شمس ) بخشے۔آمین۔میرے والد ماجد مکرم ڈاکٹر صلاح الدین صاحب شمس مرحوم شکاگو، امریکہ۔پسر حضرت مولانا شمس صاحب) گزشتہ ماہ اکتوبر 1966ء کی پندرہ تاریخ کو جب میں صبح سویرے ہسپتال سے گھر جانے لگا تو حضرت خلیفة المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا ارسال فرمودہ تار ملا۔اس میں میرے نہایت ہی پیارے ابا جان کی وفات کی اطلاع تھی۔گھر سے اتنی دور یہ جانکاہ خبر ملتے ہی آنکھوں میں آنسو آگئے اور دل و دماغ غم اور افسوس سے ماؤف ہو گئے۔آپ حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوائی کے فرزند تھے۔دادا جان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوہ والسلام کے مقرب صحابہ میں سے تھے اورا با جان خود بھی صحابہ میں شامل