حیات شمس — Page 591
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 559 جدو جہد میں مصروف تھا۔اس وقت فرانسیسیوں اور انگریزوں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار تھے اور فرانسیسیوں کے شام پر قبضہ کی وجہ سے کئی جنگجو بھاگ کر فلسطین آگئے تھے۔انہوں نے فلسطین میں ایک مدرسہ کھولا تھا جس پر اسلامی طرز عمل کی چھاپ تھی۔میں بھی اسی مدرسہ میں پڑھتا تھا۔اس میں نظم ونسق بہت اعلیٰ درجہ کا تھا اور حتی بہت ہوا کرتی تھی۔سکول ٹائم کے بعد بھی طلباء کے کئی دستے بازاروں میں راؤنڈ پر رہتے تھے اور اگر کسی طالب علم کو خلاف ادب اور خلاف اخلاق حرکت کرتے ہوئے دیکھتے تو اگلے دن سکول میں اس کو سب کے سامنے بلایا جاتا تھا اور بعض اوقات ڈنڈے مارے جاتے تھے۔مدرسہ سے چھٹی کے بعد لڑ کے قطار میں نکلتے تھے اور جس کا گھر آجاتا تھا وہ قطار سے نکل کر گھر میں داخل ہو جاتا تھا۔ایک دن ہم قطار میں جارہے تھے کہ سامنے سے مولانا جلال الدین صاحب شمس آگئے میرے ساتھ کے لڑکے نے ان کو دیکھ کر گالی دی۔میں خاموش رہا۔جب میرا گھر آیا تو میں گھر میں داخل ہوتے وقت اس لڑکے کو بھی گھسیٹ کر اندر لے آیا اور اسے کہا کہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا۔وہ مجھ سے معافیاں مانگنے لگ گیا چنانچہ میں نے اسے ایک ہلکا ساطمانچہ مار کر چھوڑ دیا۔اس لڑکے نے میری شکایت شیخ کامل القصاب کے بیٹے سے کی جو کہ نہایت کرخت اور بہت سخت آدمی تھا۔اس نے مجھے بلایا اور جب میں پہنچا تو ناشتہ کر رہا تھا۔ناشتہ سے فارغ ہو کر اس نے مجھ سے پوچھا کہ اس لڑکے کو کیوں مارا تھا؟ میں نے کہا کہ اس نے میرے والد کے دوست کو گالی دی تھی۔اس نے پوچھا کہ کون ہے تمہارے والد کا دوست؟ میں نے کہا کہ احمدی مبلغ مولانا جلال الدین صاحب شمس۔اس پر اس نے میری توقع کے بالکل برخلاف صرف اتنا کہا کہ ایسا دوبارہ نہیں کرنا اور جانے دیا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کی دو باتیں خاص طور پر مشہور تھیں۔ایک یہ کہ انہیں جب بھی کسی قرآنی آیت کا حوالہ مطلوب ہوتا تھا تو وہ اکثر اسی جگہ پر مل جاتا تھا جہاں سے وہ قرآن کریم کھولتے تھے یا اس کے ایک دو صفحات ادھر یا اُدھر۔دوسری بات یہ کہ وہ غیر معمولی حاضر جواب تھے۔بسا اوقات لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں پوچھے جانے والے سوال کا پہلے علم تھا اسی لئے تو اتنا مناسب اور جلدی جواب دے دیا ہے۔ایک دفعہ مولانا جلال الدین صاحب شمس ہمارے گھر تشریف لائے۔ان کے ہاتھ میں چند خطوط اور اخبار تھا۔میں نے انہیں ایک کمرہ میں بٹھا دیا۔انہوں نے خط پڑھا اور وہیں تخت پر ہی لیٹ گئے اور اخبارمنہ پر رکھ لیا۔میں سمجھا کہ شاید آرام فرمارہے ہیں اسلئے میں کمرہ سے نکل گیا۔جب کچھ دیر کے بعد میرے والد صاحب اور چچا جان تشریف لائے اور کمرہ میں گئے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ مولانا جلال الدین صاحب شمس