حیات شمس

by Other Authors

Page 577 of 748

حیات شمس — Page 577

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 545 امیر آدمی تھے اور SDO تھے۔قادیان محلہ دار الرحمت میں جو گھر بنایا وہ امی نے اپنا زیور بیچ کر بنایا اور اس سلسلہ میں نانا جان نے بھی مدد کی۔پھر جب ربوہ آئے تو آپ نے زمین لے کر دی۔چار دیواری بنوائی پھر دو چھوٹے چھوٹے کمرے بنائے پھر ایک نلکا لگوا کر دیا۔چونکہ ہمارے منجھلے بھائی منیر الدین شمس صاحب واقف زندگی تھے اس لئے امی جان نے وہ گھر ابا جان کی وفات کے بعد ان کے نام کر دیا۔یہ گھر دار الرحمت سٹیشن کے قریب تھا۔ہماری والدہ کی کوئی بہن نہ تھی صرف ایک بھائی تھا۔ایک بہن اور ایک بھائی Twins پیدا ہوئے مگر پیدائش کے بعد ہی فوت ہو گئے۔ہماری والدہ محترمہ سعیدہ شمس کی والدہ اس وقت فوت ہوئیں جب انکے والد یعنی ہمارے نانا ( حضرت خواجہ عبید اللہ صاحب 22 سال کے تھے۔ہمارے نانا نے ساری عمر دوسری شادی نہ کی کہ دوسری ماں بچوں کو اپنی ماں جیسا پیار نہیں دے سکے گی۔حضرت نانا جان بہت متقی، پرہیز گار انسان اور نہایت خشوع وخضوع سے عبادت کرنے والے تھے۔جب ابا جان فروری 36ء میں انگلستان جارہے تھے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ہماری والدہ محترمہ کو اجازت دی کہ وہ بھی اپنے خرچے پر ساتھ جاسکتی ہیں لیکن امی نے عرض کیا کہ تین سال کی تو بات ہے لیکن جنگ عظیم کی وجہ سے دس سال انتظار کرنا پڑا۔جس دن ابا نے انگلستان سے واپس آنا تھا اس دن میں اور بھائی صلاح الدین شمس ، بھائی حمید مولانا شمس صاحب کے بھتیجے ، خواجہ رشید کا بھائی علی محمد (مولانا شمس صاحب کے بھانجے )، خواجہ منور کا بھائی ، پھوپھی حمیدہ کا بیٹا سب ان کو لینے لاہور گئے۔ابو نے مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کے گھر قیام کیا تھا۔جماعت والوں نے وہاں ٹھہرایا تھا۔جب ہم ان کے گھر پہنچے تو ابو نہا ر ہے تھے۔پھر ابو نے پوچھا میرے بچوں نے کوئی چیز لینی ہے؟ تو میں اور بھائی صلاح الدین شمس ان کے ساتھ انار کلی گئے۔ابو نے پوچھا کہ میری بیٹی نے کیا لینا ہے؟ میں چھوٹی سی تھی مجھے برقعہ پہننے کا بہت شوق تھا، میں نے کہا مجھے برقعہ لے کر دیں ( دو گھوڑا بوسکی کپڑا) یہ کپڑا ان دنوں میں خاصا مہنگا تھا۔چنانچہ برقعہ کا کپڑا بمبئی کلاتھ ہاؤس سے بسکٹی رنگ میں لیا۔پھر میں نے سوچا کہ اگر یہ کپڑا امی نے دیکھا تو انہوں نے تو اس کی قمیض بنوا دینی ہے اس لئے ہم نے اسے سیاہ رنگ کروانے کیلئے دیدیا اور دکان والوں کو گھر کا پتہ دیا کہ یہ پارسل بھیج دیں۔پھر میں نے بہت مہنگی چوڑیاں خریدیں۔پھر ابا نے بھائی صلاح الدین سے پوچھا کہ میرے بیٹے نے کیا لینا ہے؟ وہ ابو سے بہت شرماتا تھا۔میرے کان میں کہا کہ گیند لینی ہے۔آپ نے انہیں گیند خرید کرلے دی۔