حیات شمس

by Other Authors

Page 569 of 748

حیات شمس — Page 569

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 537 طور پر یہ میرابیان ہے کہ حضرت مولانا نہایت متدین علم دوست حلم و بردباری کے پیکر، خوش اخلاق اور سادہ طبیعت تھے۔طالب عملی کے زمانہ میں امتحان دے کر جب ہم سیکھواں رخصتوں پر جاتے تو مولانا قرآن کریم حفظ کیا کرتے تھے اور گو آپ سارے قرآن کے تو حافظ نہ تھے مگر قرآن کریم کا بیشتر حصہ ان کو حفظ تھا اور اس کے نتیجہ میں وہ موقع محل کی آیات اپنی گفتگو میں پیش کرتے تھے اور لوگوں پر آپ کے قرآنی استنباط سے نیک اثر پیدا ہوتا تھا۔محترم خان بہادر مرز اسلطان احمد صاحب سے مولانا کومحبت تھی اور آپ کے علم دوست ہونے کی وجہ سے کسی وقت حضرت مرزا صاحب موصوف کے مکان کے چوبارہ میں بھی آپ رہتے رہے ہیں۔اور وہاں نماز تہجد اور قرآن کریم کو خوش الحانی سے پڑھنا آپ کے معمول میں داخل تھا اور آس پاس کے احباب آپ کے اس عمل سے متاثر تھے۔بلاد عربیہ میں جو آپ نے حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایات کے ماتحت کام کیا اس سے حضور بہت خوش تھے اور تفسیر کبیر میں ایک جگہ آپ کا ذکر کیا ہے۔ولایت کے زمانہ میں سب سے بڑا مبشرین کا گروپ جس میں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ، حافظ قدرت اللہ صاحب، چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر اور شیخ ناصر احمد صاحب وغیرہ شامل تھے، باوجود یکہ یہ نو جوان سات آٹھ سال قادیان میں واقفین زندگی کے طور پر دینی تعلیم حاصل کر کے مختلف ممالک میں متعین کئے گئے تھے لیکن پھر بھی حضور کی ہدایت تھی کہ شمس صاحب کے پاس چھ ماہ ٹرینگ لے کر اپنے اپنے ملکوں کو روانہ ہوں۔چنانچہ یہ لوگ شمس صاحب سے ٹریننگ لیکر اپنے اپنے علاقوں میں گئے۔اس طرح گویا شمس صاحب ان سب کے استاد ہیں اور ان کے ذریعہ دنیا کے مختلف ملکوں میں تبلیغ کا کام ہورہا ہے۔مولانا کی ولایت سے کامیاب مراجعت پرسیدنا حضرت فضل عمر رضی اللہ عنہ نے ایک تقریب میں طلوع الشمس من مغربها کی پیشگوئی کو شمس صاحب پر چسپاں کیا تھا اور فرمایا کہ یہ پیشگوئی شمس صاحب کے ذریعہ پوری ہوئی۔غرضیکہ مولانا شمس صاحب بے نظیر قابلیتوں کے انسان تھے۔قدرت نے آپ کے وجود میں بہت سی لیاقتیں جمع کر رکھی تھیں اور اس کے نتیجہ میں جو بلند حیثیت آپ کو جماعت میں حاصل تھی اور جو ارفع شان آپ کو خدا کی طرف سے ودیعت ہوئی تھی اس سے سلسلہ عالیہ کے خواص وعوام واقف ہیں۔متحدہ ہندوستان کی صورت میں مولانا تقریباً ہر علاقہ میں کسی جلسہ کی تقریب یا مناظرہ پر تشریف لے