حیات شمس

by Other Authors

Page 568 of 748

حیات شمس — Page 568

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس فتح کی خوشی میں مخالف کی کسی لایعنی بات پر ہنسی کر رہے تھے آپ کی زبان سے میں نے ہمیشہ 536 الحمد للہ الحمد اللہ ہی سنا جو ملکی آواز سے آپ چلتے چلتے کہ رہے ہوتے۔ایک خاص بات جو ان دنوں تبلیغی سفروں میں میں نے بعض اوقات ساتھ ہونے یا قادیان میں اکٹھا ہوتے وقت دیکھی، (1925 ء سے قبل ) وہ یہ تھی کہ مرحوم کے ہاتھ میں ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء اور علماء سلسلہ کی تصنیفات میں سے کوئی نہ کوئی تصنیف ہوتی تھی جس سے آپ نوٹ لیتے اور ایک موٹی سی کاپی میں لکھتے رہتے اور مضمون لکھتے وقت یا مناظرہ سے قبل اسی سے نوٹ لیتے۔شمس صاحب مرحوم کو خدا تعالیٰ نے بہت بلند مقام عطا کیا اور دلی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کی روح کو جنت الفردوس میں اور بھی بلند مقام عطا فرمائے۔آمین۔آپ اپنے ساتھیوں کو نہ بھولے جب کبھی موقعہ ملا آپ نے اپنے ساتھیوں میں سے کسی کے ساتھ جو ہمدردی، خیر خواہی ہو سکتی تھی اسے بجالانے میں فرق نہ کیا۔کسی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو اس کے گھر پہنچ کر یا پاس بلا کر اس کی خیر خواہی کی۔اللہ تعالیٰ آپ کو اخروی نعماء سے مالا مال فرمائے۔ہم ایک لمبازمانہ اکٹھے رہے ہیں (الفضل ربوہ 17 نومبر 1966ء) ( حضرت مولا نا قمر الدین صاحب مرحوم ، صد ر اول مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ ) خاکسار اور حضرت مولانا ایک لمبا زمانہ اکٹھے رہے ہیں۔مجھے وہ زمانہ بھی یاد ہے کہ ہم اکٹھے سکھواں سے قادیان تعلیم کے حصول کی غرض سے آتے تھے۔حضرت خلیفۃ امسیح الثانی رضی اللہ ہیڈ ماسٹر تھے۔پھر بڑی کلاسوں میں جا کر ہم نے قادیان میں رہائش اختیار کی۔وہاں عرفانی سٹریٹ میں ہم اپنے مکان کے ایک کمرہ میں رہتے تھے اور کھانا لنگر سے کھاتے تھے۔سفر وحضر میں اکٹھا وقت گذرتا تھا۔قادیان کے گلی کوچوں میں اکٹھے نکلتے اور اکٹھے واپس آتے۔سیر کو اکٹھے جاتے اکٹھے واپس آتے۔یہی صورت نمازوں کی تھی۔آخری کلاسوں میں گئے تو ہم بورڈنگ احمد یہ میں داخل ہو گئے اور وہیں سے آخری امتحان پاس کر کے سلسلہ کے کاموں میں لگ گئے۔اس سارے عرصہ میں عینی شاہد کے