حیات شمس — Page 560
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 528 کا سلوک ہمارے ساتھ ایسا ہی چلا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ بھی منشا نہیں اور خدا کرے کہ اس کی کبھی یہ منشانہ ہو کہ اس جماعت کو ہلاک اور تباہ کر دے کیونکہ اس سلسلہ نے جسے خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے ابھی وہ کام پورے نہیں کئے جو اس کے سپرد کئے گئے تھے۔ابھی غیر مذاہب کے ساتھ جنگ عظیم جاری ہے۔عیسائیوں ، یہودیوں، ہندؤوں ، لامذہب اور بد مذہب اقوام کے خلاف روحانی جنگ ہورہی ہے اور اس جنگ میں ابھی ہمیں آخری فتح حاصل نہیں ہوئی۔ہماری جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ اور ہماری بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ پہلے سے زیادہ اہل اور اس کی رضا میں محو ہونے والے اور اس کے نور سے حصہ لینے والے ایسے جرنیل پیدا کرتا چلا جائے گا جو اسلام کی اس فوج کو بہترین قیادت عطا کریں گے۔گے۔پس ہمارے دل اپنے ایک دوست کی جدائی کی وجہ سے بے شک دکھی ہیں کیونکہ انسانی فطرت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ جانے والے کے فراق کے نتیجہ میں دُکھ محسوس کرتا ہے۔لیکن جہاں تک سلسلہ احمدیہ کا تعلق ہے ایک شمس غروب ہوا تو اللہ تعالیٰ ہزاروں شمس اس پر چڑھائے گا اور اللہ تعالیٰ کا فضل اس جماعت کو اس وقت تک حاصل ہوتا رہے گا جب تک یہ جماعت اور اس کے افراد اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی برکتوں اور اس کی رحمتوں کے حصول کے اہل بنائے رکھیں گے۔وہ قربانیاں دیتے رہیں گے اور ایثار کا نمونہ دکھاتے رہیں گے جو صحابہ نے خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے دکھایا تھا۔غرض دکھی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے والے بھی ہیں کہ وہ سلسلہ کے کاموں میں کوئی رخنہ نہیں پڑنے دے گا جس کے نتیجہ میں یہ جماعت کمزور ہو۔جیسا کہ سلسلہ کے پہلے جانے والے بزرگوں کے بعد اس نے شمس صاحب جیسے آدمی کھڑے کر دیئے اسی طرح وہ شمس صاحب کے جانے کے بعد شمس صاحب جیسے آدمی کھڑا کر دے گا۔مکرم شمس صاحب نے جو خدمات سلسلہ کی کی ہیں ان کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں بڑی قدر تھی۔جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے زندہ ہو وہ ہر اس کام میں زندگی پیدا کر دیتا ہے جسے وہ خدا تعالیٰ کے نام پر اور اس پر بھروسہ کرتے ہوئے شروع کرتا ہے۔پھر شمس صاحب کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے "خالد" کا خطاب بھی دیا حضور نے جلسہ