حیات شمس

by Other Authors

Page 559 of 748

حیات شمس — Page 559

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 527 یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمدالحق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حالانکہ چند مہینے پہلے حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں انہیں کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔میر محمد الحق صاحب کو تو کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور حافظ روشن علی صاحب کو جماعتوں کے جلسوں پر آنے لگ گئے تھے مگر لوگ زیادہ تر یہی سمجھتے تھے کہ ایک نوجوان ہے جسے دین کا شوق ہے اور وہ تقریروں میں مشق پیدا کرنے کیلئے آجاتا ہے مگر حضرت خلیفہ اول کی وفات کے بعد چند دنوں میں ہی خدا تعالیٰ نے وہ عزت اور رعب بخشا کہ جماعت نے یہ سمجھا کہ ان کے بغیر اب کوئی جلسہ کامیاب ہی نہیں ہوسکتا۔پھر کچھ عرصہ کے بعد جب میر محمد اسحق صاحب کو انتظامی امور میں زیادہ مصروف رہنا پڑا اور ان کی صحت خراب ہوگئی اور ادھر حافظ روشن علی صاحب وفات پاگئے تو کیا اس وقت بھی کوئی رخنہ پڑا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً مولوی ابوالعطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کیا۔اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلے کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں۔“ الفضل قادیان 19 نومبر 1940ء) پس الہی سلسلے اپنے بزرگوں کے وصال کے بعد ان سے جدا ہو کر صدمہ اور غم تو محسوس کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں (اگر کوئی ناسمجھ خیال کرے) کہ کسی جانے والے کے بعد اس کی وجہ سے الہی سلسلہ کے کام میں رخنہ پیدا ہوسکتا ہے یا رخنہ پیدا ہوگیا ہے کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ اپنے قائم کر دہ سلسلہ کو بقا اور زندگی عطا کرنا چاہتا ہے اس وقت تک ایک شخص کے اعمال پر فنا وارد کرنے کے بعد دوسرے افراد کھڑے کر دیتا ہے جو اسی قسم کے اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور اپنے لئے اور جماعت کیلئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے ہوتے ہیں۔ہمارے بزرگ، ہمارے بھائی، ہمارے دوست مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس ہم سے جدا ہوئے۔خدا کی خاطر انہوں نے اپنی زندگی کو گزارا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے وفات کے بعد خدا تعالیٰ کی ابدی رضا کو حاصل کیا۔ان کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ خود اس سلسلہ میں ایسے آدمی کھڑے کرے گا جو اسی خلوص کے ساتھ اور جو اسی جذبئہ فدائیت کے ساتھ اور جو اسی نور علم کے ساتھ اور جو اسی روشنی فراست کے ساتھ سلسلہ کی خدمت کرنے والے ہوں گے جس کے ساتھ مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس نے سلسلہ کی خدمت کی تھی کیونکہ خدا تعالیٰ