حیات شمس

by Other Authors

Page 557 of 748

حیات شمس — Page 557

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس دونوں آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک ہی وقت میں اعلانِ فنا بھی کیا ہے اور اعلان بقا بھی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو کلیۂ فنا ہونے سے محفوظ رکھا ہے اور اُس نے ان چیزوں کو اپنی مشیت کے ماتحت ایک بقا عطا کی ہے۔525 قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے اور جو دو آیات میں نے پڑھی ہیں وہ بھی مختصراً اس طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ ایک تو انسان کی روح مرنے کے بعد بقا حاصل کرتی ہے اور دوسرے قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی اعمال صالحہ کو بھی باقی رکھتا ہے۔غرض ان دونوں آیات میں فرماتا ہے کہ ہر چیز جو اس دنیا میں ہے آخر یہاں سے چلی جائے گی۔نہ انسان یہاں رہے گا کہ وہ بھی فانی ہے اور نہ اس کے اعمال۔جہاں تک مرنے والے کی ذات کا تعلق ہے اس دنیا میں باقی رہیں گے بلکہ وہ اعمال مرنے والے کے ساتھ ہی دوسرے جہان میں لے جائے جائیں گے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانِ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ ہر چیز جو زمین میں پائی جاتی ہے فانی ہے سوائے ان اشیاء اور وجودوں کے جنہیں خدا تعالیٰ باقی رکھنا چاہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان آیات کے ایک معنی تفسیر صغیر میں یہی کئے ہیں کہ اس سرزمین پر جو کوئی بھی ہے آخر ہلاک ہونے والا ہے اور صرف وہ بچتا ہے جس کی طرف تیرے جلال اور عزت والے خدا کی توجہ ہو۔پس وہ لوگ اپنے ان اعمال کے ساتھ جن کے ذریعہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی جلال کو دنیا میں قائم رکھنے والے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بقا حاصل کرتے ہیں۔یعنی ان کو بقا حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں (جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ) صاحب عزت وہی ہو جاتے ہیں جو صاحب تقویٰ ہوں جیسا کہ فرمایا: اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ (الحجرات: 14) خدا تعالی کی نگاہ میں وہی عزت پاتے ہیں جو قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن ہوتے ہیں اور رضائے الہی کی جنتوں میں اللہ تعالیٰ ان کا ٹھکانہ بناتا ہے۔پس یہاں ایک طرف یہ فرمایا کہ اس دنیا میں نہ کسی شخص نے باقی رہنا ہے اور نہ جہاں تک اس کی ذات کا تعلق ہے اس کے اعمال نے باقی رہنا ہے۔اور دوسری طرف یہ فرمایا کہ یہاں کی زندگی کے خاتمہ کے ساتھ تم پر کلی فنا وارد نہیں ہوگی بلکہ