حیات شمس — Page 553
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس اسلام کی تبلیغ کیلئے اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔پھر وہ زمانہ بھی آئے گا جب اس دنیا پر صرف اشرار ہی اشرار رہ جائیں گے اور جب سورج بھی مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کرے گا اور دنیا تباہ ہو جائے گی۔یہ سارے بطن ہیں جو اپنے اپنے وقت پر پورے ہوں گے۔لیکن میں سمجھتا ہوں اس کا ایک بطن یہ بھی ہے جوش صاحب کے آنے سے پورا ہوا اور جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہمارا اس وقت کا روحانی حملہ جارحانہ حملہ ہوگا جو زیادہ سے زیادہ قوی ہوتا چلا جائے گا۔521 پس ہماری جماعت کے دوستوں پر بھی اور جامعہ احمد یہ اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو یکے بعد دیگرے قوم کے نو جوانوں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔جب لڑائی نہیں ہوتی اس وقت فوجوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جب جارحانہ اقدام کا وقت آتا ہے تو جس طرح ایک تنور والا اپنے تنور میں پتے جھونکتا چلا جاتا ہے اسی طرح نو جوانوں کو قربانی کی آگ میں جھونکنا پڑتا ہے اور یہ پرواہ نہیں کی جاتی کہ ان میں سے کون بچتا ہے اور کون مرتا ہے۔ایسے موقعہ پر سب سے مقدم، سب سے اعلیٰ اور سب سے ضروری یہی ہوتا ہے کہ جیسے پروانے شمع پر قربان ہوتے چلے جاتے ہیں اسی طرح نو جوان اپنی زندگیاں اسلام کے احیاء کیلئے قربان کر دیں کیونکہ ان کی موت کے ساتھ ان کی قوم اور ان کے دین کی زندگی وابستہ ہوتی ہے اور یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ اگر قوم اور دین کی زندگی کیلئے دس لاکھ یا دس کروڑ یا دس ارب افراد بھی مرجاتے ہیں تو ان کی پرواہ نہیں کی جاسکتی اگر ان کے مرنے سے ایک مذہب اور دین زندہ ہو جاتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس اپنے اندر پیدا کرنا چاہیئے۔شمس صاحب پہلے مبلغ ہیں شمس صاحب پہلے مبلغ ہیں جو جنگ کے بعد مغرب سے واپس آئے۔یوں تو حکیم فضل الرحمن صاحب بھی مغرب میں ہیں۔مولوی محمد شریف صاحب بھی مغرب میں ہیں۔صوفی مطیع الرحمن صاحب بھی مغرب میں ہیں اور ہو سکتا تھا کہ کوئی اور پہلے آجاتا۔ہم نے حکیم فضل الرحمن صاحب کو آج سے نو ماہ پہلے واپس آنے کا حکم دیدیا تھا مگر ان میں سے کسی کو واپس آنے کی