حیات شمس — Page 552
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 520 اپنے نام کے ساتھ شمس لگالیا تا کہ اس ذریعہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی پوری ہو کہ جب شمس مغرب سے مشرق کی طرف آئے گا تو اس وقت ایمان نفع بخش نہیں ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس وقت اسلام اور ایمان کے غلبہ کے آثار شروع ہو جائیں گے اور یہی معنی صحیح اور درست ہیں۔بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی پیشگوئی پوری ہوتو اسی وقت اس کے تمام پہلو اپنی تکمیل کو پہنچ جانے چاہئیں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔تورات اور بائیبل سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب آپ ظاہر ہوں گے تو اس وقت کفر بالکل تباہ ہو جائے گا حالانکہ جب آپ ظاہر ہوئے تو آپ ﷺ کے ظہور کے ساتھ ہی کفر تباہ نہیں ہوا۔درحقیقت اس پیشگوئی کا مطلب یہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور اور آپ کی بعثت کے ساتھ کفر کی تباہی کی بنیا د رکھی جائے گی۔اسی طرح اس پیشگوئی کے بھی یہ معنی نہیں کہ جب شمس صاحب آجائیں گے تو اس کے بعد لوگوں کیلئے انکا ایمان نفع بخش ثابت نہیں ہوگا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تبلیغ اسلام کی خاص بنیاد رکھی جائے گی اور اس وقت اسلام کو اتنا غلبہ حاصل ہوگا کہ لوگوں کا ایمان لانا اتنا نفع بخش نہیں ہوگا جتنا پہلے ہو سکتا تھا۔پہلے تو اسلام کی آواز ایسی ہی ہوگی جیسے ایک وحید وطر ید انسان کی آواز ہوتی ہے مگر پھر دنیا کے چاروں طرف مبلغ پھیل جائیں گے۔قرآن کریم کے تراجم شائع ہوتے چلے جائیں گے۔لٹریچر شائع ہونا شروع ہو جائے گا اور اس کے بعد ایک انسان اسلام کی آواز کو اس طرح نہیں سنے گا جیسے اجنبی آواز ہوتی ہے بلکہ وہ اس آواز کو اس طرح سنے گا جیسے ایک شناخت شدہ آواز ہوتی ہے اور ایسی آواز کا انکار اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا ایک منفرد کا انکار آسان ہوتا ہے۔یہی معنی اس پیشگوئی کے ہیں کہ اس وقت ایمان قبول کرنا اتنا مشکل نہیں رہے گا جتنا پہلے ہوا کرتا تھا۔اس وقت اسلام پھیلانے والے بڑی کثرت سے پھیل جائیں گے لوگ اسلام کی تعلیم سے مانوس ہو جائیں گے اور اسلام قبول کرنا ان کیلئے پہلے جیسا دو بھر نہیں رہے گا۔یہ مفہوم ہے جو اس پیشگوئی کا ہے۔پھر وہ زمانہ بھی آجائے گا جب اس پیشگوئی کا دوسرا بطن پورا ہوگا اور مغرب سے اسلام کے مبلغ نکلنے شروع ہوں گے اور مغرب میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو بجائے اسلام کو مٹانے کے