حیات شمس — Page 511
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 479 مریدوں کی جماعت تتر بتر کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ کی جماعت میں فوق العادت برکت ڈالی۔مسیح علیہ السلام نے کہا ہے وہ پودا جسے میرے آسمانی باپ نے نہیں لگایا وہ جڑ سے اکھیڑا جائے گا۔پس مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی حیرت انگیز ترقی آپ کی صداقت کا ایک زبردست ثبوت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی فرماتے ہیں: میں تو ایک تخم ریزی کرنے کے لیے آیا ہوں۔وہ تم میرے ہاتھ سے بویا گیا ، اب وہ بڑھے گا اور پھلے گا اور پھولے گا اور کوئی نہیں جو اس کو روک سکے۔“ میری اس تقریر کے بعد کرنل ڈگلس نے فرمایا: ” مجھ سے بارہا یہ سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ میں اس سوال کا یہی جواب دیتا ہوں کہ اسلام میں روحانیت کی روح پھونکنا۔بانی جماعت احمدیہ نے آج سے پچاس برس پیشتر یہ معلوم کر لیا کہ موجودہ زمانہ میں مذہب اور سائنس کا میلان کس طرف ہوگا۔مثلاً یہ کہ مادہ فنا ہو جاتا ہے اور اس مادی زندگی کے بعد ایک روحانی زندگی جاری ہوگی۔پروفیسر جینز اپنی کتاب Mysterious World میں لکھتے ہیں کہ مادہ غیر فانی چیز نہیں ہے اور دنیا ایک وسیع خیال کی طرح ہے نہ کہ ایک مشین کی طرح جو مادی اشیاء سے وابستہ ہے۔وہ بالفاظ دیگر ایک وسیع خیال کی جگہ ایک بڑی روح کہہ سکتے تھے۔جیسا کہ لکھا ہے ، خدا ایک روح ہے۔پھر تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ احمدیت کا ایک مقصد اسلام کو موجودہ زمانہ کی زندگی کے مطابق پیش کرنا ہے۔میں نے جب 1897ء میں بانی جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی لیکن آج دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔پچاس سال کے عرصہ میں یہ نہایت شاندار کامیابی ہے اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ نسل کے نوجوان اس کی طرف زیادہ توجہ دیں گے اور آئندہ پچاس سال کے عرصہ میں جماعت کی تعداد بہت بڑھ جائے گی۔( ریویو آف ریلیجنزار دو ستمبر 1939ء) نوٹ : 30 جولائی 1939ء کے جلسہ لندن کی تفصیلی رپورٹ الفضل قادیان 16 اگست 1939ء میں بھی شائع ہوئی جو وہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔] کرنل ایم ڈبلیوڈ گلس کا انتقال اس مایہ ناز ، عہد ساز اور تاریخ ساز ہستی کا وصال 25 فروری 1957 ء کو ہوا۔آپ کے وصال پر