حیات شمس — Page 508
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ مرزا غلام احمد سے حفظ امن کے لیے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے لہذاوہ بری کیے جاتے ہیں۔“ 476 اس جگہ ان چند فقرات کا ذکر کرنا غیر موزوں نہ ہوگا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے قلم سے اس مقدمہ کے متعلق تحریر فرمائے ہیں حضور فرماتے ہیں : ” میرے ہلاک کرنے کے لیے ایک خون کا مقدمہ بھی بنایا گیا جس کی میرے خدا نے مجھے پہلے خبر دے دی تھی۔وہ مقدمہ جو میرے پر بنایا گیا ، وہ حضرت عیسی بن مریم کے مقدمہ سے بہت سخت تھا کیونکہ حضرت عیسی پر جو مقدمہ کیا گیا اس کی بنا محض ایک مذہبی اختلاف پر تھی جو حاکم کے نزدیک ایک خفیف بات تھی، بلکہ کچھ بھی نہ تھی۔مگر میرے پر جو مقدمہ کھڑا کیا گیاوہ اقدام قتل کا دعوی تھا اور جیسا کہ مسیح کے مقدمہ میں یہودی مولویوں نے جا کر گواہی دی تھی ضرور تھا کہ اس مقدمہ میں بھی کوئی مولویوں میں سے گواہی دیتا۔اس لیے اس کام کے لیے خدا نے مولوی محمد حسین بٹالوی کو انتخاب کیا اور وہ ایک بڑا المباجبہ پہن کر گواہی کے لیے آیا اور جیسا کہ سردار کا ہن مسیح کو صلیب دلانے کے لیے عدالت میں گواہی دینے کے لیے آیا تھا یہ بھی موجود ہوئے۔صرف فرق اس قدر تھا کہ سردار کا ہن کو پیلاطوس کی عدالت میں کرسی ملی تھی اور مسیح ابن مریم ایک مجرم کی طرح عدالت کے سامنے کھڑا تھا۔لیکن میرے مقدمہ میں اس کے برعکس ہوا۔یعنی یہ کہ برخلاف دشمنوں کی امیدوں کے کپتان ڈگلس نے جو پیلاطوس کی جگہ عدالت کی کرسی پر تھا، مجھے کرسی دی۔اور یہ پیلاطوس مسیح ابن مریم کے پیلاطوس کی نسبت زیادہ با اخلاق ثابت ہوا کیونکہ عدالت کے امر میں وہ دلیری اور استقامت سے عدالت کا پابندر ہا اور بالائی سفارشوں کی اس نے کچھ بھی پرواہ نہ کی اور قومی اور مذہبی خیال نے بھی اس میں کچھ تغیر پیدا نہ کیا۔اور اس نے عدالت پر پورا پورا قدم مارنے سے ایسا عمدہ نمونہ دکھایا کہ اگر اس کے وجود کو قوم کا فخر اور حکام کے لیے نمونہ سمجھا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔عدالت ایک مشکل امر ہے جب تک انسان تمام تعلقات سے علیحدہ ہو کر عدالت کی کرسی پر نہ بیٹھے تب تک اس فرض کو عمدہ طور پر ادا نہیں کر سکتا مگر ہم اس سچی گواہی کو ادا کرتے ہیں کہ اس پیلاطوس نے اس فرض کو پورے طور پر ادا کیا اگرچہ پہلا پیلاطوس جو رومی تھا اس فرض کو اچھے طور پر ادا نہ کر سکا اور اس کی بزدلی نے مسیح کو بڑی بڑی تکالیف کا نشانہ بنایا۔کشتی نوح صفحات 51-52 ، روحانی خزائن جلد 19 صفحات 54-56)