حیات شمس

by Other Authors

Page 507 of 748

حیات شمس — Page 507

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 475 ہیں۔( دیکھیں کتاب البریہ روحانی خزائن جلد 13 صفحات 44-46) اسی طرح حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کشتی نوح میں بھی بعض مماثلتیں بیان فرمائی ہیں جو وہاں سے ملاحظہ فرمائی جاسکتی ہیں۔اسی طرح اس مضمون میں حضرت مولانا شمس صاحب نے یکجا طور پر دس مماثلتیں بیان کی ہیں۔مماثلتیں بیان کرنے کے بعد حضرت مولانا شمس صاحب تحریر فرماتے ہیں:] مقدمہ کی آغاز کار روائی سے تین روز پہلے یعنی 29 جولائی 1897ء کو صاف طور پر اللہ تعالیٰ نے خبر دے دی تھی کہ آپ پر ایک مقدمہ بنایا جائے گا اور وہ ابتداء میں ایک بجلی کی طرح نظر آئے گا۔لیکن اس سے آپ کو نقصان نہیں ہوگا۔بلکہ وہ محض حکام کی ایک تہدید ہو گی۔جیسا کہ مجسٹریٹ امرتسر نے پہلے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا اور بیس ہزار روپیہ کے مچلکہ اور بیس ہزار روپے کی ضمانت کا مطالبہ کیا لیکن وہ صرف ایک تہدید ہی ثابت ہوئی اور جب مقدمہ کے کاغذات کیپٹن ڈگلس کے پاس پہنچے تو انہوں نے معمولی سمن جاری کیا اور پھر ایک الہی تصرف یہ ہوا کہ ڈاکٹر کلارک نے فوری عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔چنانچہ فیصلہ میں لکھا ہے: ’بادی النظر میں یہ مقدمہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس میں پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کی جائے اور پھر سیشن سپر د کیا جائے مگر ڈاکٹر کلارک بوجہ بیماری پہاڑ پر جانا چاہتا تھا۔اس کو ڈر تھا کہ شاید اس کا سب سے بڑا گواہ ورغلایا جائے اس واسطے اس نے یہ خواہش ظاہر کی کہ جہاں تک جلد ممکن ہو عدالتی تحقیقات کی جائے۔“ ڈاکٹر کلارک کے اس مطالبہ کی بناء پر فوری عدالتی تحقیقات شروع کی گئیں اور باوجود یکہ پانچ گواہوں کے بیانات ہو چکے تھے جو سب کے سب مسیح موعود کے خلاف تھے لیکن کیپٹن ڈگلس کی تسلی نہ ہوئی اور انہیں یہ خیال سوجھا کہ عبد الحمید کو مشن ہاؤس سے علیحدہ کر کے بیان لینا چاہیے اور جب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ایسا کیا تو اس نے اصل حقیقت ظاہر کر دی۔پھر جیسا کہ 29 جولائی کے الہامات میں تھا مخالفوں میں پھوٹ پڑی اور انکے بیانات مختلف ہو گئے۔اور الہام ” ایک شخص متنافس کی ذلت اور اہانت اور ملامت خلق شیخ محمد حسین بٹالوی کے حق میں پورا ہوا۔اس نے عدالت میں کرسی مانگی جو اسے نہ دی گئی اور پھر دوسرے مسلمانوں نے اس کو بہت ملامت کی کہ ایک مسلمان کے مخالف عیسائیوں کے ساتھ مل کر شہادت دینے کے لیے گیا اور پھر اخیر حکم ابراء یعنی بے قصور ٹھہرانا پورا ہوا۔چنانچہ کیپٹن ڈگلس نے فیصلہ میں لکھا: