حیات شمس — Page 506
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس۔۔۔۔۔474 تحقیقات 10 اگست کو شروع ہوئی اور 13 اگست تک جاری رہی۔عبد الحمید اس وقت تک بالکل بعض ماتحت عیسائیوں کی نگرانی میں رہا جو سکاچ مشن کے ملازم ہیں۔ہم نے بذاتِ خود اس کے بیان کو جیسا کہ ہے، نہایت ہی بعید العقل خیال کیا۔اُسکے اُس بیان میں جو اس نے امرتسر میں لکھا یا بمقابلہ اس بیان کے جو میرے سامنے لکھایا، اختلافات ہیں اور ہم اس کی وضع قطع سے جبکہ وہ شہادت دے رہا تھا مطمئن نہیں ہوئے تھے۔اس کے علاوہ ہم نے یہ معلوم کیا کہ جتنی دیر تک بٹالہ میں مشن کے ملازموں کی نگرانی میں رہا اتنا ہی اس کی شہادت مفصل اور طویل ہوتی گئی۔اس سے یہ نتیجہ پیدا ہوا کہ یا تو کوئی شخص اس کو یا اشخاص سکھلاتے پڑھاتے ہیں یا یہ کہ اس کو اس سے اور زیادہ علم ہے جتنا کہ وہ اب تک ظاہر کر چکا ہے۔لہذا میں نے ڈسٹرکٹ سپر نٹنڈنٹ پولیس کو کہا کہ آپ اس کو اپنی ذمہ داری میں لے لیں اور آزادانہ طور سے اس سے پوچھیں۔جب انہوں نے ایسا کیا اور اس کا بیان لینا شروع کیا تو وہ بغیر دھمکانے اور بغیر وعدہ معافی کا انتظار کرنے کے زار زار رونے لگا اور مسٹر لیمار چنڈ کے پاؤں پر گر پڑا اور کہا کہ وہ ملا زمان مشن کی سازش سے جن کی تحویل میں وہ تھا برابر جھوٹ بولتا رہا ہے۔وہ کئی روز تک پہرہ میں رکھا گیا۔وہ سخت مصیبت میں گرفتار رہا اور فی الحقیقت اس نے خود کشی کا ارادہ کر لیا تھا۔لہذا اس نے مسٹر لیمار چنڈ کے سامنے پورا پورا بیان کر دیا اور یہ کہ وہ مرزا صاحب کی طرف سے نہیں بھیجا گیا تھا اور جو کچھ اس نے مرز اصاحب کے خلاف کہا وہ تین عیسائیوں عبدالرحیم ، وارث دین، اور پریم داس کے سکھلاوے پر کہا۔اس نے یہ بھی اقرار کیا کہ سکھلانے والے اسے نام اور پتے زبانی یاد کراتے تھے اور بعض کے نام بھی پنسل سے اس کی ہتھیلی پر لکھ دیتے تھے اور عبد الحمید نے یہ بھی کہا کہ جب اس نے سب سے پہلا بیان ان کے کہنے کے مطابق دیا تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارے دل کی مراد پوری ہو گئی۔تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں ، کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحات 290-293) یہ تفاصیل لکھ کر کرنل ڈگلس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس الزام سے جو آپ پر لگایا گیا تھا بری قراردیا۔ایک بڑی حکمت اس مقدمہ کے دائر ہونے میں یہ تھی کہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حضرت عیسی علیہ السلام سے مماثلت قائم کرنا چاہتا تھا۔چنانچہ اس مقدمہ سے دس مماثلتیں ثابت ہوئیں۔[ نوٹ : سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب البریہ میں سات مماثلتیں بیان فرمائی