حیات شمس — Page 483
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 467 رہا ہوں کہ جب وہ چرچ مشنری سوسائٹی کے ایک مشنری کے قتل کی سازش کے الزام میں میرے روبرو پیش ہوئے اور ایک سولہ سالہ ہندوستانی لڑکے نے جو استغاثہ کا سب سے بڑا گواہ تھا یہ بیان دیا کہ احمد نے اسے ہدایت دی تھی کہ وہ اس مشنری کو قتل کر دے۔لیکن اس گواہ نے متضاد بیانات دیئے جس سے میں فور اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ حم پر کوئی الزام نہیں آتا۔چنانچہ میں نے انہیں بری کر دیا۔بعد میں یہ معلوم ہوگیا کہ اس لڑکے پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ ایسا قصہ بیان کرے جو بالکل جھوٹ تھا۔یہ مقدمہ بہت مشہور ہو گیا اور احمد کے پیرو کار کثرت سے پھیل گئے۔احمد کے بری کرنے میں جہاں تک میرا تعلق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں نے بحیثیت حج اپنا فرض منصبی ادا کیا مگر اس جماعت نے مجھے عادل پانٹیس پیلاطوس کا خطاب دینا پسند کیا ہے۔امام مسجد نے کہا کہ مرزا غلام احمد صاحب 1908ء میں وفات پاگئے اور اب ان کے خلیفہ حضرت مرزا محمود احمد صاحب ہیں۔“ اسی طرح دوسرے اخبارات نے بھی اس کا تذکرہ کیا ہے۔کرنل ڈگلس سے بعض سوالات مولانا عبد الرحیم درد صاحب نے کرنل ڈگلس سے یہ دریافت کیا کہ کیا آپ غلام حیدر کو جانتے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں۔پھر اس کی روایت سنائی کہ وہ کہتے تھے جب آپ گواہیاں لے کر گورداسپور جانے کیلئے اسٹیشن پر آئے اس وقت آپ متفکر نظر آتے تھے اور پلیٹ فارم پر ادھر ادھر پھر رہے تھے۔انہوں نے آپ سے پوچھا خیر ہے۔گھبراہٹ کی وجہ کیا ہے۔آپ نے جواب دیا کہ مجھے تسلی نہیں ہوئی ، مجھے یہ بات بناوٹی معلوم ہوتی ہے گواہیاں مرزا صاحب کے خلاف ہیں لیکن جب مرزا صاحب کی شکل کا خیال کرتا ہوں تو مجھے وہ ایسے کاموں سے نہایت ارفع دکھائی دیتے ہیں۔ڈگلس صاحب نے جواب دیا کہ یہ بات تو صحیح ہے لیکن میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ بات غلام حیدر سے ہوئی تھی یا کسی اور سے۔آپ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے ورانٹ جاری کیوں نہ کیا تھا۔کہنے لگے میں خود بھی تعجب کرتا ہوں کہ مجھے فوری طور پر یہ قانونی بات کیونکر سوجھ گئی کہ جب ابھی تک کوئی تحقیق نہیں ہوئی تو ورانٹ کیسے جاری کیا جا سکتا ہے اس واسطے میں نے سمن جاری کر دیا۔آپ نے یہ بھی کہا کہ پہلے گورنر سرفٹس پیٹرک روسن تھے اور بڑے قانون دان تھے ،اس لئے ان کے وقت میں ایسا مقدمہ