حیات شمس — Page 484
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 468 کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوئی لیکن ان کے بعد جب سرولیم لینگ گورنر ہوئے جو خود چرچ مشنری سوسائٹی سے تعلق رکھتے تھے تو ان کے عہد میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا اور اس وقت گورنمنٹ بھی اس مقدمہ کو واچ کر رہی تھی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم کی پیش گوئی کے بعد سے ہی پادری ایسے مقدمات بنانے کی سازشیں کر رہے تھے لیکن باوجود ان حالات کے کرنل ڈگلس کا عدل وانصاف کو قائم رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بری قرار دینا ایک ایسی مثال ہے جو دوسرے حکام کیلئے قابل تقلید نمونہ ہے۔عبدالحمید پر مقدمہ ڈگلس کے فیصلہ کے دو سال بعد پھر عبد الحمید کو گرفتار کر کے جے۔آر۔ڈریمنڈ صاحب کی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا تمہارا پہلا بیان صحیح ہے یا کہ دوسرا جو تم نے بدل دیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ میرا دوسرا بیان صحیح ہے۔مولوی شیر علی صاحب نے میری موجودگی میں ڈگلس صاحب سے دریافت کیا کہ اگر وہ یہ کہہ دیتا کہ میرا پہلا بیان صحیح ہے تو پھر کیا ہوتا۔انہوں نے جواب دیا۔پھر نئے سرے سے مقدمہ چلایا جا تا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے۔” اب دیکھو کہ اس بندہ درگاہ کی کیسی صفائی سے بریت ثابت ہوئی۔ظاہر ہے کہ اس مقدمہ میں عبد الحمید کیلئے سخت مضر تھا کہ اپنے پہلے بیان کو جھوٹا قرار دیتا کیونکہ اس سے یہ جرم عظیم ثابت ہوتا ہے کہ اس نے دوسرے پر ناحق ترغیب قتل کا الزام لگایا اور ایسا جھوٹ اس سزا کو چاہتا ہے جو مرتکب اقدام قتل کی سزا ہوئی ہے۔اگر وہ اپنے دوسرے بیان کو جھوٹا قرار دیتا جس میں میری بریت ظاہر کی تھی اس میں قانو ناسزا کم تھی۔لہذا اس کیلئے مفید راہ یہی تھی کہ وہ دوسرے بیان کو جھوٹا کہتا مگر خدا نے اس کے منہ سے سچ نکلوا دیا جس طرح زلیخا کے منہ سے حضرت یوسف کے مقابل پر اور ایک مفتری عورت کے منہ سے حضرت موسیٰ کے مقابل پر سچ نکل گیا تھا۔سو یہی اعلیٰ درجہ کی بریت ہے جس کو یوسف اور موسیٰ کے قصے سے مماثلت ہے۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 350) پنجاب کے موجودہ چیف جسٹس آنریبل سر ڈگلس بینگ بھی جو ڈگلس خاندان میں سے ہیں۔جس رنگ میں عدل وانصاف کے قائل کیلئے ساعی ہیں وہ نہایت قابل تعریف ہے اور تمام اہالیان صوبہ ان کی مساعی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔( الفضل قادیان 2 مئی 1936 ء)