حیات شمس — Page 6
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس آپ جان لیں گے کہ آپ اپنی ذات میں کوئی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔میں نے افریقہ کے دورہ میں ایک یہ ہدایت دی تھی کہ اپنے بزرگوں کی نیکیوں اور احسانات کو یاد رکھ کے ان کیلئے دعائیں کرنا یہ ایک ایسا اچھا خلق ہے کہ اس خلق کو ہمیں اجتماعی طور پر نہیں بلکہ ہر گھر میں رائج کرنا چاہئے۔ان کے حالات کو زندہ رکھنا تمہارا فرض ہے ورنہ تم زندہ نہیں رہ سکو گے۔اس سلسلہ میں میں نے ایک ملک غالباً کینیا میں ایک کمیٹی مقرر کی تھی۔چنانچہ اس کمیٹی نے بڑا اچھا کام کیا اور ایک عرصہ تک ان کا میرے ساتھ رابطہ رہا اور بعض ایسے بزرگوں کے حالات اکٹھے کئے گئے جو نظروں سے اوجھل ہو چکے تھے۔اس لئے ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ان کی بڑائی کیلئے شائع کرنے کی خاطر نہیں بلکہ اپنے آپ کو بڑائی عطا کرنے کیلئے ، ان کی مثالوں کو زندہ کرنے کیلئے ان کے واقعات کو محفوظ کریں اور پھر اپنی نسلوں کو بتایا کریں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے آبا و اجداد تھے اور کس طرح وہ لوگ دین کی خدمت کیا کرتے تھے۔بعض ایسے بھی ہونگے جن کو یہ استطاعت ہوگی کہ وہ ان واقعات کو کتابی صورت میں چھپوا دیں۔میں امید رکھتا ہوں کہ اگر اس نسل میں ایسے ذکر زندہ ہونگے تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذکر کو بھی بلند کرے گا اور آپ یا درکھیں گے کہ اگلی نسلیں اسی طرح پیار اور محبت سے اپنے سر آپ کے احسان کے سامنے جھکاتے ہوئے آپ کا مقدس ذکر کیا کریں گی اور آپ کی نیکیوں کو ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔(روز نامہ الفضل ربوہ 27 مارچ1989ء) ان ارشادات سے یہ بخوبی واضح ہے کہ ہمارے بزرگان سلسلہ جنہوں نے دین کیلئے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی تھیں اور جنہوں نے دراصل دین کو دنیا پر مقدم رکھا ان کے حالات سے نئی نسلوں کو باخبر کرنا نہایت ضروری امر ہے۔پس اس امر کی ضرورت ہے کہ احباب جماعت جو ا کناف عالم میں پھیلے ہوئے ہیں، اپنے اپنے خاندان کے بزرگان کے حالات زندگی جمع کرنے کی کوشش کریں یا کم از کم ان احباب کو مواد و مسودات اور معلومات فراہم کرنے کی کوشش کریں جو اس عظیم مہم میں کوشاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک اور اہم مقاصد عالیہ کو کمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔