حیات شمس — Page 5
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 5 آنے والے لوگوں کے لئے وہ دروازہ کھلا ہے جس میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی قریب ترین برکات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ کی برکات سے دوسرے نمبر پر ہیں، بڑی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔مگر کتنے ہیں جو اس چیز کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔وہ اسی دھن میں رہتے ہیں کہ افسوس انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ نہ ملا۔افسوس وہ ان برکات سے محروم رہ گئے اور اس حسرت اور افسوس میں وہ دوسری برکت جوان کو حاصل ہوئی ہے اور جس سے فائدہ اٹھانا ان کے امکان میں ہوتا ہے وہ بھی ان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔رستہ کھنچا چلا جاتا ہے۔وقت گزرتا چلا جاتا ہے۔فائدہ اٹھانے کا زمانہ ختم ہونے کے قریب پہنچ جاتا ہے مگر وہ پہلی برکت نہ ملنے پر ہی افسوس کرتے رہتے ہیں اور موجودہ برکت سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے۔“ بزرگان کی تاریخ اکٹھا کرنے کی مبارک تحریک (الفضل قادیان 15 اپریل 1944ء) سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ اگست ستمبر 1988 ء کو مشرقی افریقہ کے تاریخی دورہ پر تشریف لے گئے۔اس دورہ کے دوران اور اس کے بعد بھی کئی مواقع پر آپ نے احباب جماعت احمدیہ کو بزرگان کے حالات زندگی اکٹھا کرنے کی تحریک فرمائی۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی پہلی صدی کے آخری خطبہ جمعہ فرمودہ 17 مارچ 1989 ء میں آپ نے اپنے خاندان کے بزرگوں کے حالات اور ان کے احسانات کو جمع کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا: اس امر کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ سمندر کی تہہ میں بغیر مقصد کے اپنی لاشیں بچھانے والے گھونگوں کی پہلی نسل اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ اس کی آئندہ نسلیں ضرور فتح یاب ہونگی اور وہ نسل سب سے بڑی فتح پانے والی ہے جو سب سے پہلے ترقی کے سلیقے سکھاتی ہے۔پس اپنے ان بزرگوں کے احسانات کو نہ بھولیں جو خدا کی راہ میں اپنی جانیں بچھاتے رہے۔جن پر احمدیت کی بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہوئیں اور یہ عظیم الشان جزیرے ابھرے۔وہ لوگ ہماری دعاؤں کے خاص حق دار ہیں۔اگر آپ اپنے پرانے بزرگوں کو ان عظمتوں کے وقت یا درکھیں گے جو آپ کو خدا کے فضل عطا کرتے ہیں تو آپ کو حقیقی انکساری کا عرفان نصیب ہوگا۔تب