حیات شمس — Page 443
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 427 بالمقابل ایک ایسا مذہب بھی موجود ہے جو اسی رنگ میں ہی ہمارا مقابلہ کرتا ہے اور چرچ کے مشہور آرگن The Life of the faith ہفتہ وار رسالہ میں جو مضمون شائع ہوا اس میں مقالہ نگار نے تقسیم اشتہارات اور میری کتاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ ہمارے لئے دائی شرم ہے کہ ہمارے ملک پر اس قسم کا حملہ ہو اور اس خطرہ کا اظہار کیا کہ ملک کی موجودہ حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے جو مذہبی آزادی پائی جاتی ہے یہ پرو پیگنڈا ایک حد تک کامیاب ہو جائے۔اس میں مقالہ نگار نے Invasion کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی انگلستان پر حملہ۔اور یہ لفظ عام طور پر اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ایک ملک کی فوجیں دوسرے ملک پر چڑھائی کر کے اس میں داخل ہو جاتی ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کو بھی ایک رویا میں ولیم دی کنگر رقراردیا گیا جو ایک دن انشاء اللہ تعالیٰ پورا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس Invasion کو جاری رکھے یہاں تک کہ مکمل فتح حاصل ہو جائے۔آمین۔لندن میں مولا ناشس صاحب کے اعزاز میں الوداعی پارٹی الفضل قادیان 28 اگست 1946ء) لنڈن مکرم سیکر ٹری صاحب جماعت احمد یہ لندن بذریعہ تار مطلع فرماتے ہیں کہ جناب مولوی جلال الدین صاحب شمس کے اعزاز میں 19 جولائی کو الوداعی پارٹی دی گئی جس کی صدارت سر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے فرمائی۔معزز مہمانوں میں حسب ذیل ممتاز شخصیتیں بھی شامل تھیں : سر ایڈورڈ میسکیکن ، سرفر نیک بیون، آنریبل ہف لائنیز ڈیڈ، آنریبل ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر ڈڈلے رائٹ ، کرنل مجید ملک ، روٹری کلب کے چار ممبران بھی موجود تھے۔چائے نوش کرنے کے بعد ہمارے نو مسلم بھائی مسٹر بلال مثل نے مولوی صاحب موصوف کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا جس میں آپ کی تبلیغی مساعی اور شاندار خدمات اسلامی کی تعریف کی۔جناب مولوی صاحب نے ایڈریس کا جواب دیتے ہوئے مقامی جماعت کا اس مدد کیلئے جو ان سے آپ کو ملتی رہی ہے شکر یہ ادا کیا اور برطانوی اہل قلم کو تحریر وتقریر میں آنحضرت ﷺ کی عزت و توقیر کرنے والا ، آپ کی ذات گرامی کے متعلق نازیبا الفاظ استعمال نہ کرنے کی تلقین کی کیونکہ یہ چیز مسلمانوں کو اہل برطانیہ سے بدظن کرنے کا موجب ہوگی۔آنریبل سر محمد ظفر اللہ خاں نے اپنی تقریر میں جناب مولوی صاحب کی شاندار قر بانیوں، خدمات اور تبلیغی کوششوں کی بہت تعریف کی اور فرمایا کہ انگلستان میں آپ کی شاندار اسلامی خدمات ، انہیں تاریخ احمدیت میں بہت ممتاز کر دیں گی۔مکرم میر عبد السلام صاحب نے سب مہمانوں کا نہایت خلوص