حیات شمس — Page 419
۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 403 ثابت ہوئے۔بعض اوقات ایک ایک وقت میں پانچ پانچ سو آدمی شریک ہوتے تھے اور تقریر کے بعد سوال و جواب کا موقع دیا جاتا۔اس کے علاوہ جناب شمس صاحب پادریوں کی تقریر سننے بھی جاتے اور ان کے مسلمہ عقائد پر نہایت عمدگی سے اعتراض کرتے اور انجیل کے حوالوں سے اسلام کی صداقت اور عیسائیت کا بطلان ثابت کرتے۔ان اعتراضات کا پبلک پر بہت اثر ہوتا ہے۔خصوصاً مولوی صاحب کے انا جیل کے علم سے وہ مبہوت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے مولوی صاحب کوئی موقع بھی خواہ وہ انفرادی تبلیغ کا ہو یا اجتماعی تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ہر شخص سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں۔اکثر انجمنوں کے اجلاس میں شرکت کرتے ہیں نیز ان سے گفت و شنید کر کے اپنے جلسوں میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔کرنل ڈگلس سے ملاقاتیں وہ انگریز جو ہندوستان میں بسلسلہ ملازمت رہ چکے ہیں اور سلسلہ کی تاریخ اور کام سے واقف ہیں وہ سلسلہ کی تعریف کرنے میں ذرا باک نہیں کرتے۔چنانچہ کرنل ڈگلس وغیرہ کو مولوی صاحب اکثر دعوت دیتے ہیں اور کئی مرتبہ انہوں نے ہمارے پبلک جلسوں میں صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ایک مرتبہ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران میں یہاں تک کہہ دیا کہ جب مغربی اقوام مادیت پرستی سے اکتا کر مذہب کی طرف رجوع کریں گی تو احمدیت سب سے پہلے ان کو اپنی طرف جذب کرنے میں کامیاب ہوگی۔اس کے علاوہ جناب مولوی صاحب نو مسلم انگریزوں کی تربیت کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔یہ ان ہی کی محنت اور جانفشانی کا نتیجہ ہے کہ وہاں کے تمام نو مسلم احمدی تمام ارکان اسلام سے واقف ہیں اور ان کی صحیح روح کو سمجھتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نماز میں امامت کے فرائض بطریق احسن انجام دے سکتا ہے۔ان احمدی نوجوانوں سے جو ہندوستان سے بغرض تحصیل علم انگلستان وقتا فوقتا جاتے رہتے ہیں مولوی صاحب اکثر ملتے رہتے ہیں اور ان کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلاتے رہتے ہیں۔ان کو تبلیغی سرگرمیوں میں برابر شریک کر کے ثواب کے مستحق بناتے ہیں۔۔الفضل قادیان 20 اکتوبر 1944ء)