حیات شمس

by Other Authors

Page 420 of 748

حیات شمس — Page 420

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس $ 1945 ہندوستان اور انگلستان کو باہمی صلح کا پیغام 404 مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب) سید نا حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی امام جماعت احمدیہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 12 جنوری 1945ء کے خطبہ میں ہندوستان اور انگلستان کو آپس میں صلح کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا۔میں انگلستان کو نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں خواہ میری نصیحت ہوا میں ہی اڑ جائے۔ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری ہوا میں اڑنے والی آواز کو بھی لوگوں کے کانوں تک پہنچا دے۔الفضل قادیان 17 جنوری 1945ء) اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کے اخلاص سے بھرے ہوئے الفاظ کو ہوا میں نہ رہنے دیا بلکہ اپنی جناب سے اس کے ان لوگوں کے کانوں تک پہنچانے کا سامان مہیا کر دیا جن کیلئے وہ فرمائے گئے تھے۔احباب جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کس طرح سلسلہ کے ایک مخلص فرزند چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب کو توفیق بخشی کہ چیٹم ہاؤس لنڈن سے ایسے رنگ اور ایسے موقع پر اپنے آقا کے الفاظ کو پیش کریں کہ انگلستان اور ہندوستان کی نیوز ایجنسیاں اور پریس انہیں ہر شخص تک پہنچا دے۔اس اشاعت کے بعد پھر بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ آواز انگلستان کے موقر اخباز ٹائمنر کی 10 مارچ کی اشاعت میں جناب مولوی جلال الدین شمس کا مکتوب گرامی شائع ہوا جس میں انہوں نے تحریر فرمایا : سر محمد ظفر اللہ خاں کی اس تجویز کے بارہ میں کہ کرلیس مشن کی ناکامی سے جو ہندوستان میں ڈیڈ لاک پیدا ہوا گیا ہے اس کے ازالہ کیلئے فوری اقدام کرنا چاہیے۔آپ نے 12 جنوری کے خطبہ میں یہی خیال ظاہر فرمایا حضور نے فرمایا کہ: وو دونوں ملکوں کے آئندہ مفاد کے پیش نظر یہ اشد ضروری ہے کہ برطانیہ اور ہندوستان آپس میں صلح کرلیں اور اپنے آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ مستقل دوستی کے رشتہ میں منسلک کرلیں“ پھر جناب مولوی شمس صاحب امام مسجد لنڈن نے کوشش فرمائی کہ سید نا حضرت امیر المومین ایدہ اللہ تعالیٰ کی اس دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی نصیحت کو حضور کے الفاظ میں ہی عمائدین برطانیہ تک پہنچا دیں چنانچہ جناب مولوی صاحب نے ماہ گذشتہ میں ایک دو ورقہ شائع فرمایا جس کا عنوان ہے۔