حیات شمس — Page 416
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 400 اور اپنے مذہب کو اپنے عیسائی مخالفوں کے سامنے پورے زور اور قوت و جوش سے پیش کرتے ہیں۔پھر لکھا ہے: The Imam is very skillful in presenting his case and quotes literally from the Bible۔یعنی امام اپنی بات کو پیش کرنے میں خوب ماہر ہیں اور کثرت سے بائیبل کے بھی حوالے پیش کرتے ہیں۔28 جولائی کو برادرم عبد العزیز صاحب نے مسٹر گرین سے پھر گفتگو کی اور مباحثات کے سلسلہ کو جاری رکھنے کیلئے کہا اور اسے مسجد میں لائے۔تین چار گھنٹہ اس سے گفتگو ہوئی۔4 اگست کو نجات کے موضوع پر مباحثہ تھا۔لیکن مباحثہ کے وقت بارش اور تین ائیر ریڈ وارننگ ہونے کی وجہ سے صرف ایک گھنٹہ مباحثہ ہو سکا اور یہ قرار پایا کہ آئندہ پھر اسی موضوع پر مباحثہ ہو یعنی نجات مسیحی اور اسلامی نقطہ خیال سے۔تین ہفتے کیلئے مسٹر گرین لندن سے باہر گئے ہیں۔ان کی واپسی پر مباحثات کا پھر سلسلہ شروع ہوگا۔مسٹر گرین نے The KingdomNews کے جون کے نمبر میں ہائیڈ پارک میں مباحثات کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ایڈیٹر ان ایام میں ہر جمعہ کے روز چھ بجے شام سے ہائیڈ پارک میں امام مسجد لنڈن سے پبلک مباحثہ کرتا ہے جو اس ملک میں مسلمانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کا نمائندہ ہے۔But who consists of the best order of the most educated and cultured۔لیکن وہ اسلام کی تعلیم یافتہ اور مہذب ہونے کے لحاظ سے بہترین فرقہ ہے۔مختلف طبقات کے لوگ حاضر ہوتے ہیں جن کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہوتی ہے اور اڑھائی گھنٹے تک مسلسل سنتے ہیں۔An achievement rarely experienced in Hyde Park۔یہ ایک ایسی کامیابی ہے جو ہائیڈ پارک میں شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آئی ہے۔مباحثہ کے اختتام پر فریقین حاضرین کے سوالات کا جواب دیتے ہیں۔انڈیا ہاؤس کی لائبریری میں احمد یہ لٹریچر ایام زیر رپورٹ میں مجھے انڈیا ہاؤس کی لائبریری سے بعض کتب کے دیکھنے کی ضرورت پیش آئی۔یہ معلوم کر کے کہ ہماری کتابیں وہاں نہیں ہیں میں نے احمدیت اور تحفہ شاہزادہ ویلز اور ”اسلام“ کا ایک