حیات شمس — Page 402
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 386 اپنے معصوم و بے گناہ بیٹے کو نہایت بے دردی اور بے رحمی سے ظالمانہ طور پر قتل کر دیتا ہے۔لیکن قرآن کہتا ہے۔قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِيْنَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعاً (الزمر:54) حاضرین پر بہت اچھا اثر ہوا۔کیا موجودہ انا جیل الہامی ہیں؟ دوسرا مباحثہ 21 اپریل کو ہوا۔موضوع مباحثہ انا جیل تھیں کہ آیا ان میں جو کچھ لکھا ہے وہ درست اور الہامی ہے۔مسٹر گرین نے اپنی پہلی تقریر میں مختلف لوگوں کی شہادات پیش کیں کہ انا جیل کب لکھی گئیں اور کس نے لکھیں۔ان کی شہادتوں میں بھی اختلاف پایا جاتا تھا۔انہوں نے ہمیں منٹ اس پر صرف کئے۔میں نے کہا آپ بتا ئیں موجودہ انا جیل میں جو کچھ لکھا ہے کیا وہ درست اور الہامی ہے؟ اس نے کہا ہاں درست ہے اور پرانے عہد نامہ کے بالکل مطابق ہے۔اس پر میں نے اپنی تقریر میں یسوع مسیح کے نسب نامہ مندرجہ متی پر سترہ اعتراضات کئے اور اس کی غلطیاں بتائیں اور پرانے عہد نامہ سے اس کی مخالفت ثابت کی۔وہ ان میں سے ایک اعتراض کا بھی جواب نہ دے سکے اور کہنے لگے ان کے جواب کیلئے تیاری کی ضرورت ہے اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں کہ قرآن میں لکھا ہے انجیلوں پر ایمان لا ناضروری ہے۔میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا کہ ہم متی یا لوقا یا مرقس یا یوحنا کی تحریرات پر ایمان لائیں ورنہ مسٹر گرین بتائیں کہ کس آیت میں متنی یا مرقس وغیرہ کا ذکر ہے۔پھر میں نے پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کے مخالف بیانات پیش کئے نیز انا جیل کے آپس کے اختلافات بتائے وہ ان کا بھی جواب نہ دے سکے۔حاضرین سمجھ گئے کہ مسٹر گرین جواب نہیں دے سکتے۔میں نے اپنی آخری تقریر میں کہا کہ مسٹر گرین کہتے ہیں کہ میرے سوالات کے جوابات کیلئے انہیں تیاری کی ضرورت ہے لہذا میں انہیں وقت دینے کو تیار ہوں۔آئندہ جمعہ کو جو مباحثہ ہو وہ انہی سترہ سوالات کے متعلق ہو جو میں نے یسوع مسیح کے نسب نامہ مندرجہ متی پر کئے ہیں۔آٹھ دن میں وہ جواب تیار کر سکتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ پہلا مضمون پیشگوئیوں کے متعلق ابھی مکمل نہیں ہوا تھا جو مسٹر شمس نے دوسرا مضمون شروع کر دیا۔میں نے کہا دونوں کی رائے سے یہ موضوع قرار پایا تھا۔پیشگوئیوں کے متعلق دو روز مباحثہ ہو چکا ہے اور حاضرین نے دونوں کے خیالات سن لئے ہیں اور وہ اس سے خود نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ کس کے دلائل زبردست ہیں۔