حیات شمس — Page 400
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ہائیڈ پارک میں مباحثہ 384 برادرم عبد العزیز صاحب نے ہائیڈ پارک میں ایک عیسائی لیکچرار مسٹر گرین سے سوالات کئے اور ان سے مباحثہ طے کیا۔مسٹر گرین چونکہ مسیح کی الوہیت کے قائل نہیں صرف نبی مانتا تھا اس لئے میں نے ان سے کہا چونکہ آپ مسیح کو صرف نبی مانتے ہیں اور ہم بھی انہیں نبی تسلیم کرتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ کی نبوت کے متعلق اختلاف رہ جاتا ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کیلئے جو پیشگوئیاں بائبل میں پائی جاتی ہیں ان پر بحث ہو۔میں پیشگوئیاں پیش کروں گا آپ تردید کریں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صادق نہیں آتیں یا یہ کہ ان کا مصداق مسیح ہے۔کل وقت مباحثہ دو گھنٹے قرار پایا اور تقریر پندرہ پندرہ منٹ کی۔چنانچہ گزشتہ 6 اپریل کو چھ بجے شام سے آٹھ بجے تک مباحثہ ہوا۔میں نے تین پیشگوئیاں ذکر کیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انہیں چسپاں کیا۔استثنا باب اٹھارہ کی پیشگوئی میں جن سات علامات کا ذکر ہے ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود میں پورا ہونا ثابت کیا۔مسٹر گرین نے اپنی تقریر میں اس کو مسیح پر چسپاں کرنے کی کوشش کی اور مسیح کے متعلق دوسری پیشگوئیاں بیان کیں۔میں نے جواب میں کہا مسیح کو تو ہم بھی مانتے ہیں ان کی نبوت تو آج زیر بحث ہی نہیں اس لئے غلط بحث سے بچنے کیلئے مسٹر گرین کو چاہیے کہ وہ میری پیشگوئیوں پر بحث کریں۔پھر میں نے چھ وجوہ بیان کیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح اس پیشگوئی کے مصداق نہ تھے۔وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکا۔مباحثہ کے اختتام پر حاضرین نے سوالات کئے جن کے جوابات دیئے گئے۔اس میں حضرت مسیح موعود کی آمد اور مسیح کے صلیبی موت نہ مرنے کا بھی ذکر آیا۔ایک انگریز نے دریافت کیا کہ آپ نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس زمانہ میں بھی نبی آیا ہے لیکن مسلمان تو محمد ﷺ کے بعد نبیوں کا آنا بند سمجھتے ہیں۔میں نے کہا یہ ان کی غلطی ہے نبوت ایک نعمت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روحانی نعمتوں کا دروازہ بند کرنے کیلئے نہیں آئے تھے بلکہ کھولنے کیلئے آئے ، ان کی اتباع سے نبوت کا انعام بھی مل سکتا ہے۔اس نے کہا It is a very good idea کہ یہ تو بہت ہی عمدہ خیال ہے۔مباحثہ کے اختتام پر حاضرین میں سے بعض نے علی الاعلان کہا کہ ہم آپ کو مبارک دیتے ہیں کہ آپ نے بہت اچھا مباحثہ کیا مسٹر گرین جواب نہیں دے سکا۔حاضرین میں سے بعض کو مزید تحقیقات کا شوق ہوا چنانچہ ان میں