حیات شمس — Page 398
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 382 کا ان دنوں زور تھا اس لئے حاضری دوسو سے کچھ زائد ہوئی۔پہلے چالیس منٹ میں میں نے اسلام اور عیسائیت کے موضوع پر پرچہ پڑھا۔اس کے بعد حاضرین نے سوالات کئے جن کے میں نے جوابات دیئے۔پہلا سوال جو ایک انگریز نے کیا یہ تھا کہ آپ ہمیں یہاں وعظ کرنے کیلئے آئے ہیں پہلے ہندوستان جائیں اور وہاں کی حالت درست کریں۔دیکھیں بنگال میں کتنے لوگ بھوکے مررہے ہیں۔میں نے کہا میں یہاں آپ کو مادی خوراک تو دینے کیلئے نہیں آیا بلکہ روحانی خوراک دینے کیلئے آیا ہوں۔تم لوگ ہندوستان گئے تاکہ ہندوستان کی مادی حالت درست کرو اور اس کا نتیجہ وہ ہے جو بنگال میں نظر آرہا ہے۔اس پر حاضرین نے چیئر ز دیئے اور سائل بہت شرمندہ ہوئے۔سوالات ، تعدد ازدواج ، اسلام میں جبر، عدم ضرورت مذہب وغیرہ تھے۔پھر پچاس منٹ ڈسکشن ہوئی۔دس اشخاص پانچ پانچ منٹ بولے۔Discussion میں میرے جوابات کی روشنی میں ایک شخص نے کہا کہ تعدد ازدواج کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے اور ایک نے کہا کہ ہمیں آج معلوم ہوا ہے کہ مذہب بھی مدلل اور عقلی باتیں پیش کرتا ہے۔Discussion کا میں نے پندرہ منٹ میں جواب دیا۔منتظمین میں سے ایک نے کہا پہلے کسی مذہبی شخص نے اس طرح سوالات کے جوابات نہیں دیئے۔پہلے ایک بشپ نے یہاں تقریر کی تھی اس کی سوال کرنے والوں نے خوب خبر لی اور وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکا مگر آپ کے جواب معقول اور ٹو دی پوائنٹ تھے۔سیکرٹری نے کہا ہم آپ کو پھر بھی اسلام اور سائنس کے موضوع پر بولنے کیلئے بلائیں گے۔ایک انگریز کا قبول اسلام مسٹر آر جونز وانڈ زورتھ جیل میں قید ہیں۔گورنر قید خانہ نے لکھا تھا کہ وہ اپنے مذہب کو بدلنا چاہتا ہے۔میں نے اس کے جواب میں کتب بھیجیں کہ وہ پہلے ان کا مطالعہ کرے۔ان کے مطالعہ کے بعد مسٹر جونز نے لکھا کہ وہ اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔میں وہاں گیا اور اس سے گفتگو کی اور اس نے اسلام قبول کر لیا۔سرکاری کاغذات میں بھی اس کے مذہب کی تبدیلی کروائی گئی۔اللہ تعالیٰ اسے اپنی زندگی کو اسلام کے احکام کے مطابق بنانے کی توفیق بخشے۔آمین۔ماہ اپریل میں وہ قید خانہ سے باہر آئیں گے اور فوج میں داخل ہوں گے۔میجر نارتھ فیلڈ وائنڈز ورتھ جیل کے ڈپٹی گورنر ہیں۔جب میں مسٹر جونز کو دیکھنے گیا تو ان سے