حیات شمس — Page 377
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس متفرق مساعی 361 عید ین پر اچھا اجتماع ہوتا رہا۔خطبوں میں اسلام کی فضیلت کا ذکر کیا گیا اور بتایا گیا کہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے اور قرآن مجید ہی ایک ایسی کامل الہامی کتاب ہے جس کی پیروی سے انسان کو مکالمہ الہیہ اور کشوف اور رویا صادقہ کا انعام ملتا ہے۔چنانچہ ان پیشگوئیوں کا ذکر کر کے جو نجومیوں اور سپر چولسٹوں نے جنگ کے متعلق کی تھیں جنہیں واقعات نے غلط ثابت کیا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی جنگ کے متعلق پیشگوئیوں کا ذکر کیا۔اخبارات نے دونوں عیدوں کی رپورٹ شائع کی۔میٹنگز میں بعض نئے اشخاص آتے رہے جن سے مذہبی گفتگو ہوئی۔زار روس کی ایک رشتہ دار کوئنس آئی نیز مسٹر رثبت جو آسٹریلیا کی طرف سے لیگ آف نیشنز میں نمائندگی کرتی رہی ہیں مسجد میں آئیں۔بعض یونیورسٹیوں کے طلباء بھی آئے جن سے گفتگو ہوئی۔نیز تین انگریز آئی سی۔ایس طالب علموں کو اردو کے اسباق دیئے جواب ہندوستان میں کام کر رہے ہیں۔پولینڈ اور دیگر ممالک کے بعض اشخاص بھی مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔ایک مقام سے مراکش کے 38 اشخاص نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے۔سال زیر رپورٹ میں دمشق اور مصر کے احمدیوں کے متعدد سوالات کے جوابات لکھ کر بھیجے گئے۔نیز انگلستان کے بعض انگریزوں نے اپنے خطوط میں جو سوالات دریافت کئے ان کے جوابات دیئے گئے۔سیرالیون اور بعض دیگر غیر ممالک میں ہزاروں کی تعداد میں اشتہارات بھیجے گئے نیز برائٹن اور ڈیون شر کے بعض شہروں میں اشتہارات تقسیم کئے گئے اور بعض اشخاص کو کتب اور پمفلٹ بھیجے گئے۔دو ہندوستانی اور تین انگریز بیعت فارم پر کر کے سلسلہ میں داخل ہوئے۔اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے۔بمباری کے ایام میں اخبار ” الفضل“ کو احمدی دوستوں کی خیریت کے متعلق بذریعہ تار اطلاع دی جاتی رہی تمام احمدی دوست ہوائی حملوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔والسلام۔خاکسار جلال الدین شمس امام مسجد لندن۔الفضل قادیان 23 دسمبر 1941ء)