حیات شمس — Page 378
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس ایک نشان * 1942-1941 362 ( حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس امام مسجد حمد به اندن ) اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ظاہر ہوتا ہے جس کا ذکر سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ مورخہ 14 اپریل 1941ء میں ہے جو کہ الفضل 11 اپریل میں شائع ہوا ہے۔حضور فرماتے ہیں کہ: وو مجھے دکھایا گیا کہ میرے سپرد انگلستان کی حفاظت کا کام کیا گیا ہے اور میں رویا میں ہی برطانیہ کی کامیابی کیلئے دعا کر رہا ہوں“ الفضل قادیان 11 اپریل 1941ء) جس وقت حضور نے یہ خواب ذکر فر ما یا اس وقت سے لیکر 22 جون (جس کی صبح کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا ) تک کی اخبارات کا اگر مطالعہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہوگا کہ یہاں غالب خیال ہی نہیں بلکہ یقینی امر خیال کیا جاتا تھا کہ جرمنی اس دفعہ برطانیہ پر حملہ کرے گا لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے جرمن کا رخ روس کی طرف پھیر دیا اور اس کے ساتھ جنگ شروع ہو گئی اور جرمنوں کی خلاف توقع روسیوں نے ان کا سخت مقابلہ کیا۔چنانچہ وہ جنگ اس وقت تک زوروں پر ہے جس میں تمہیں چالیس لاکھ کے قریب سپاہی طرفین کے کام آچکے ہیں۔کیا عقلمندوں کیلئے یہ نشان نہیں کہ حضور نے خدا سے علم پا کر ایک ایسی بات بیان فرمائی جو سیاستدانوں کے اندازوں اور راؤں کے بالکل مخالف تھی۔لیکن آخر خدا کی بات پوری ہوئی۔فالحمد للہ علی ذالک۔اور گزشتہ دو تین ماہ میں لنڈن پر سوائے ایک ہوائی حملہ کے اور کوئی حملہ نہیں ہوا۔آکسفورڈ میں کا نفرنسیں گزشتہ ماہ میں مجھے دو دفعہ آکسفورڈ جانا پڑا۔ایک دفعہ ورلڈ کانگرس آف فیتھس کی سالانہ کانفرنس میں دوسری دفعہ نیو کالج آکسفورڈ میں ”ہندوستان کی موجودہ سیاسی حالت“ کے متعلق سمر سکول کی طرف سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جو سات دن متواتر رہی۔منتظمین کا نفرنس نے مجھ سے بھی درخواست کی تھی کہ ہندوستان کیلئے ایک نیا نظام کے موضوع پر ایک پرچہ پڑھوں۔کانفرنس کے آخری دن میں میرے