حیات شمس

by Other Authors

Page 376 of 748

حیات شمس — Page 376

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 360 ایسے تمام احمدی ممبروں کی طرف سے مجھی جائے۔ساتھ ہی لکھا کہ اب شاید دیر ہوگئی ہو اس لئے آپ جس طرح مناسب سمجھیں یہ رقم خرچ کریں۔میں نے انہیں لکھا کہ اس رقم کی تفسیر کبیر کی جلد میں خرید کران غریب احمدیوں کو دی جائیں جو تفسیر پڑھنا چاہتے ہیں لیکن بوجہ مالی تنگی کے خرید نہیں سکتے۔اس طرح یہ ایک صدقہ جاریہ ہو جائے گا نیز نیروبی کی مسجد کیلئے انہوں نے پانچ پونڈ چندہ دیا ہے۔میں نے انہیں لکھا تھا کہ وہ دو ہفتہ میرے پاس آکر ٹھہریں چنانچہ وہ تشریف لائے اور دو ہفتہ میرے پاس بطور مہمان قیام کیا۔اس اثناء میں میں نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد کے متعلق پیشگوئیاں اور آپ کے صداقت کے دلائل وغیرہ لکھائے۔خاکسار جلال الدین شمس از لنڈن۔لیکچرز الفضل قادیان 30 جولائی 1940ء) سال زیررپورٹ ( مئی 1940 ء تا اپریل 1941ء) میں چونکہ انگلستان پر ہوائی حملے ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ سے لاکھوں بچوں اور عورتوں کو لندن چھوڑ کر دوسرے دیہات میں جا کر رہنا پڑا نیز پانچ چھ ماہ کی متواتر بمباری اور جنگ کے مختلف شعبہ جات اور کاموں میں مردوں عورتوں کی مشغولیت تبلیغی مساعی میں حارج ہوئی اور ان کی تمام توجہ جنگی تیاریوں میں لگ گئی۔اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ ملاقاتوں کا سلسلہ تقریباً بند ہوگیا اور بلیک آؤٹ کی وجہ سے لیکچروں کا سلسلہ بھی بند کرنا پڑا تاہم ان نامساعد حالات میں کافی حد تک تبلیغ کا کام کیا گیا جس کا اختصار کے ساتھ ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے۔گذشتہ سالوں کی طرح موسم گرما میں دار التبلیغ میں مذہبی مسائل پر لیکچروں کا سلسلہ جاری کیا گیا۔جن میں احمدیت حقیقی اسلام ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم بھی سنائی جاتی رہی۔کل تعداد لیکچروں کی اٹھارہ ہے۔ان میں سے میرے دو لیکچروں کے وقت سرحسن سہروردی اور شیخ یوسف علی صاحب سابق پرنسپل اسلامیہ کالج لاہور نے صدارت کی۔حاضری اچھی ہوتی رہی۔دار التبلیغ کے علا ہائیڈ پارک میں بھی لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا گیا لیکن اگست میں جب بمباری شروع ہوئی تو یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔ہائیڈ پارک میں حضرت مسیح کی صلیبی موت کے موضوع پر ایک پادری سے مباحثہ بھی ہوا۔